• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 35446

    عنوان: جھوٹ بول کر نوکری لینے سے کیا ساری کمائی حرام ہو گی جبکہ انسان اس نوکری کی قابلیت بھی رکھتا ہو اور اس میں کوئی خیانت بھی نہ کرنے ؟

    سوال: زید ایک کمپنی میں ۳ سال سے نوکری کر رہا ہے۔ اس نے نوکری لیتے وقت اچھی تنخواہ لینے کیلیے ایک جھوٹ بولا تھا جس وقت اس نے انٹرویو دیا اس کی پرانی کمپنی میں تنخواہ ۲۳ ہزار تھی۔ اور اس کی ترقی ہونے والی تھی لیکن اس نے انٹرویو فارم میں موجودہ تنخواہ ۳۰ ہزار لکھی۔ جس کی اس کو پرانی کمپنی سے امید تھی۔ لیکن ممکن تھا کہ اس کو اتنا اضافہ نہ ملتا۔ کیونکہ کمپنی کے حالات اچھے نہیں تھے.۔ پھر اس کو ۳۵ ہزار میں نوکری مل گئی۔ اب زید ۳ سال سے ایمانداری سے بہت اچھا کم کر رہا ہے اور کمپنی اس سے خو ش ہے۔ اور اس کو ۶ مہینے بعد ہی ۵ ہزار اور پھر سال بعد ۱۰ ہزار کا اضافہ دے چکی ہے۔ اب کیا زید کی سا ری کمائی حرام ہے یا صرف پہلے ۶ مہینے کی کمائی حرام ہوگی۔ کیونکہ اس کے بعد کمپنی نے خود اضافہ دیا اور سال بعد دوبارہ انٹرویو ہوا اور پھر اضافہ۔ یا اس کو صرف جھوٹ کا گناہ ملے گا؟

    جواب نمبر: 35446

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 1840=1294-12/1432 صورتِ مسئولہ میں زید کو صرف جھوٹ بولنے کا گناہ ہوگا، اس کی آمدنی پر حرام ہونے کا حکم عائد نہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند