• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 32610

    عنوان: کون سے رشتہ دار ہیں جن کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے؟

    سوال: کون سے رشتہ دار ہیں جن کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے؟میں جانتا ہوں کہ ہر ایک ساتھ بھلائی سے پیش آنا چاہئے، لیکن کس کو خاص طورپر رشتہ دار کہا گیاہے؟اور کتنی مرتبہ ہمیں ان سے ملنا چاہئے؟

    جواب نمبر: 32610

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 968=382-7/1432

    خاص طور پر جن رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا حکم قرآن وحدیث میں آیا ہے ان کے لیے عموماً دو لفظ (۱) ذوی الارحام، (۲) ذوی القربی استعمال کیے گئے ہیں، ذوی الارحام یا ذوی القربی میں وہ تمام شتے دار داخل ہیں جن سے نسبی رشتہ ہو چاہے وہ رشتہ والد کی طرف سے ہو یا والدہ کی طرف سے اور چاہے وہ شتہ کتنا ہی دور کا ہو․․ والد کی طرف سے رشتہ داری ہو جیسے دادا دادی، پردادا، پردادری، بھائی، بھتیجے، بھتیجی اور ان دونوں کی اولاد کا سلسلہ، بہن، بھانجا، بھانجی اور ان دونوں کا سلسلہ اولاد چچا اور ان کی اولاد در اولاد، پھوپھی اور ان کی اولاد آخر تک، والدہ کی طرف سے رشتہ داری ہو جیسے نانا، نانی پرنانا پرنانی، خالہ، ماموں اور ان دونوں کی پوری نسل وغیرہ اسی طرح بیوی کے رشتہ دار جیسے بیوی کے ماں باپ بھائی بہن اور ان کی اولاد در اولاد کے ساتھ بھی حسن سلوک اور صلہ رحمی کا معاملہ کرنا چاہیے، حسن سلوک کے لیے والدین سب سے مقدم ہیں۔ الحاصل اقارب اجانب کے مقابلہ میں ہیں جن سے کسی بھی طرح کا رشتہ ہو وہ اقارب ہیں ورنہ اجانب تفسیر رح المعانی میں ہے: ”والمراد بالرحم الأقارب ویقع علی کل من یجمع بینک وبینہ نسب وإن بعد ویطلق علی الأقارب من جہة النساء“ (روح المعاني: سورہٴ نساء) اور دوسری جگہ ہے: ”وقال الراغب : الرحم رحم المرأة أی بیت منبت ولدہا ووعاؤہ ومنہ استعیر الرحم للقرابة لکونہم خارجین من رحم واحدة ویقال للأقارب ذوو رحم کما یقال لہم أرحام وقد صرح ابن الأیر بأن ذا الرحم یقع علی کل من یجمع بینک وبینہ نسب... والمراد بہم ما یقابل الأجانب ویدخل فیہم الأصول والفروع والحواشی من قبل الأب أو من قبل الأم وحرمة قطع کل لا شک فیہا لأنہ علی ما قلنا رحم والآیة ظاہرة فی حرمة قطع الرحم (روح المعاني، سورہٴ محمد، آیت وتقطعوا أرحامکم) ان سے گاہے گاہے ملاقات کرنی چاہیے تاکہ محبت میں اضافہ ہو، واضح رہے کہ ان رشتہ داروں میں جو قریب در قریب ہیں ان کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کرنا مقدم ہوگا، جیسے والدین، بڑا بھائی، دادا دادی، بڑی بہن، خالہ چچا وغیرہ صلہ رحمی میں ان سے سلام کرنا، ان کو ہدیہ پیش کرنا، ان کی مدد کرنا ان کے ساتھ بیٹھنا ان کے ساتھ نرمی اور احسان کا برتاوٴ کرنا ان کی زیارت کرنا وغیرہ داخل ہے۔ قال في الدر: وصلة الرحم واجبة ولو کانت بسلام وتحیة وہدیة ومعاونة ومجالسة ومکالمة وتلطف وإحسان ویزورہم غبًّا لیزید حبًا“ (درمختار مع الشامي: ۹/۵۸۹)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند