• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 3225

    عنوان:

    میری بیوی ڈاکٹر ہے اور اس کا اپنا کلینک ہے۔ وہ اپنے مریضوں کو مختلف لیباریٹری ٹیسٹ لکھ کر دیتی ہے، مگر کسی سے یہ نہیں کہتی کہ وہ یہ ٹیسٹ کہاں سے کرائیں۔ مریض کی اپنی ہوتی ہے وہ جہاں سے چاہیں ٹیسٹ کرائیں۔ لیباریٹریز کا یہ طریقہ ہوتاہے کہ وہ تمام ٹیسٹ کے چارج میں سے کچھ رقم ڈاکٹر کو ادا کرتے ہیں چاہے ڈکٹر ان سے رقم طلب کریں یا نہیں ۔ڈکٹر کو دی جانی والی اس رقم کی ادائے گی کی وجہ سے مریضوں سے وصول کئے جانے والے چارج پر کوئی فرق نہیں پڑتاہے۔ لیباریڑیز ہر ماہ حساب بنا کر ڈکٹروں کو پیش کرتے ہیں اور رقم ادا کرتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا ڈاکٹروں کے لیے یہ رقم وصول کرنا جائز ہے یا نہیں؟

    سوال:

    میری بیوی ڈاکٹر ہے اور اس کا اپنا کلینک ہے۔ وہ اپنے مریضوں کو مختلف لیباریٹری ٹیسٹ لکھ کر دیتی ہے، مگر کسی سے یہ نہیں کہتی کہ وہ یہ ٹیسٹ کہاں سے کرائیں۔ مریض کی اپنی ہوتی ہے وہ جہاں سے چاہیں ٹیسٹ کرائیں۔ لیباریٹریز کا یہ طریقہ ہوتاہے کہ وہ تمام ٹیسٹ کے چارج میں سے کچھ رقم ڈاکٹر کو ادا کرتے ہیں چاہے ڈکٹر ان سے رقم طلب کریں یا نہیں ۔ڈکٹر کو دی جانی والی اس رقم کی ادائے گی کی وجہ سے مریضوں سے وصول کئے جانے والے چارج پر کوئی فرق نہیں پڑتاہے۔ لیباریڑیز ہر ماہ حساب بنا کر ڈکٹروں کو پیش کرتے ہیں اور رقم ادا کرتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا ڈاکٹروں کے لیے یہ رقم وصول کرنا جائز ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 3225

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 361/ ب= 324/ ب

     

    اگر ڈاکٹر خود مریض کو لیبارٹریز تک پہنچائے یا اپنے نوکر کے ساتھ اسے بھیجے تو ایسی صورت میں اپنے اس عمل اور محنت کی وجہ سے ڈاکٹر کے لیے لیبارٹریز والوں سے کمیشن لینا جائز ہوگا۔ اور اگر ڈاکٹر نے صرف لکھ دیا اور ٹیسٹ کرانے کے لئے کوئی عمل اور محنت، بھاگ دوڑ نہ کی تو پھر اسے کسی طرح کا کمیشن لینا جائز نہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند