• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 2961

    عنوان:

    میرا ایک دوست دلالی (بروکر) کا کام کررہا ہے، کسی نے اس سے کہا ہے کہ یہ کام شریعت کی رو سے ناپسندیدہ ہے اور سبب، فضول گوئی اور جھوٹ قرار دیا ہے، کیا اسلام میں دلالی حرام ہے؟ (۲) کریڈٹ کارڈ کے بارے میں اسلام کیا کہہ رہا ہے؟

    سوال:

    میرا ایک دوست دلالی (بروکر) کا کام کررہا ہے، کسی نے اس سے کہا ہے کہ یہ کام شریعت کی رو سے ناپسندیدہ ہے اور سبب، فضول گوئی اور جھوٹ قرار دیا ہے، کیا اسلام میں دلالی حرام ہے؟ (۲) کریڈٹ کارڈ کے بارے میں اسلام کیا کہہ رہا ہے؟

    جواب نمبر: 2961

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 175/ د= 149/ د

     

    دلالی کا کام جائز ہے اس پر اجرت لینا درست ہے۔ البتہ آپ کا دوست بروکر (دلال) کس قسم کے کام کی کرتا ہے اور کیا معاملہ اس کا ہوتا ہے، اس کی تفصیل خود اس سے لکھواکر دوبارہ معلوم کریں۔

    (۲) کریڈٹ کارڈ خریدنا اور ان کا استعمال کرنا فی نفسہ جائز ہے، بشرطیکہ پہلے سے اکاوٴنٹ کھلوالیاجائے تاکہ کارڈ جاری کرنے والا ادارہ اپنا قرضہ وہاں سے وصول کرلے اور اگر اکاوٴنٹ سے براہ راست قرضہ منہا کرنے کا فی الحال انتظام نہیں ہے تو پھر اس کی انتہائی احتیاط برتی جائے کہ جاری کردہ بلوں کی قیمت مقررہ مدت کے اندر ادا کردی جائے تاکہ ان پر سود لاگو نہ ہو، کیونکہ سود ادا کرنا حرام ہے، اور کارڈ جاری کرنے والا ادارہ جو سالانہ فیس وصول کرتا ہے وہ ادا کرنا جائز ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند