• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 28693

    عنوان: حمید اور مجید کے درمیان ان شکلوں میں شراکت ہوئی، (۱) حمید نے اپنی ذاتی دکان کو سپر مارکیٹ کے کاروبار کے اعتبار سے مخصوص فرنیچر وغیرہ کا کام کروایا۔(۲) مجید کے مال اور اس کی محنت ہوگی؟ (۳) نفع نقصان میں حمید کا 55/ فیصد اور مجید کا 45/ حصہ ہوگا۔ (۵) حمید مالک دکان نے مجید سے پانچ الاکھ بطور دکان کی ڈپوزٹ بھی لے لیا تاکہ کاروبار بند کرنے پر جو مخصوص قسم کے فرنیچر میں رقم صرف ہوئی ہے وہ کسی اور مصرف میں نہ آئے گا تو اس میں ہونے والے نقصان کا نصف مجید کی دی ہوئی ڈپوزٹ سے وصول کرلے ․․ تو ان شکلوں کے ساتھ شرعاً شراکت جائز ہے کہ نہیں؟یا پھر کونسی شکل جائز ہوگی؟

    سوال: حمید اور مجید کے درمیان ان شکلوں میں شراکت ہوئی، (۱) حمید نے اپنی ذاتی دکان کو سپر مارکیٹ کے کاروبار کے اعتبار سے مخصوص فرنیچر وغیرہ کا کام کروایا۔(۲) مجید کے مال اور اس کی محنت ہوگی؟ (۳) نفع نقصان میں حمید کا 55/ فیصد اور مجید کا 45/ حصہ ہوگا۔ (۵) حمید مالک دکان نے مجید سے پانچ الاکھ بطور دکان کی ڈپوزٹ بھی لے لیا تاکہ کاروبار بند کرنے پر جو مخصوص قسم کے فرنیچر میں رقم صرف ہوئی ہے وہ کسی اور مصرف میں نہ آئے گا تو اس میں ہونے والے نقصان کا نصف مجید کی دی ہوئی ڈپوزٹ سے وصول کرلے ․․ تو ان شکلوں کے ساتھ شرعاً شراکت جائز ہے کہ نہیں؟یا پھر کونسی شکل جائز ہوگی؟

    جواب نمبر: 28693

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 123=124-2/1432

    صورت مسئولہ میں حمید مالک دوکان کا مجید سے پانچ لاکھ روپئے بطور دوکان کی ڈپوزٹ کے لینا صحیح نہیں ہوا، اور یہ بھی درست نہیں کہ نقصان کی صورت میں حمید، مجید کی دی ہوئی رقم سے نصف رقم وصول کرلے کیوں کہ شرکت میں نقصان بھی دونوں شریک پر آتا ہے، جس طرح نفع کی تقسیم دونوں کے مابین ہوتی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند