• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 28048

    عنوان: (۱) ہم نے چار سال کے معاہدہ پر ایک فلیٹ بک کیا ہے ، پچاس فیصدرقم ادائیگی کردی گئی ہے اور بقیہ رقم ان شاء اللہ اگلے چار سالوں میں قسطوں میں اداکردی جائے گی۔ ہم نے اس کے لیے بینک سے لون نہیں لیا ہے، لیکن معاہد ہ کے حساب سے کسی بھی حالت میں قبضہ ملنے تک ہم یہ فلیٹ کسی کو بیچ سکتے ہیں نہ ہی کسی اور کو ٹرانسفر کرسکتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا بقیہ پچاس فیصد رقم ہمارے اوپر قرض سمجھا جائے گا؟پچاس فیصد رقم اداکرنے کے بعد ہمارے پاس کچھ پیسے ہیں (زیورات اور نقد)جس سے ہم صاحب نصاب بنتے ہیں، کیا ہمیں اس پر زکاة دینی ہوگی یا نہیں؟کیوں کہ ہم نے سناہے کہ جب آپ کے اوپر قرض ہو تو زکاة نہیں دینی واللہ اعلم۔ 
    (۲) ہم نے اپنے دوست کو کچھ رقم ادھار دی ہے اور واپس ہونے کی امید بھی ہے۔ اس صورت میں اس رقم کی زکاة کس کے ذمہ ہوگی؟جو استعمال کررہا ہے اس کے یا جس نے بغیر سود کے قرض دی ہے اس کے؟

    سوال: (۱) ہم نے چار سال کے معاہدہ پر ایک فلیٹ بک کیا ہے ، پچاس فیصدرقم ادائیگی کردی گئی ہے اور بقیہ رقم ان شاء اللہ اگلے چار سالوں میں قسطوں میں اداکردی جائے گی۔ ہم نے اس کے لیے بینک سے لون نہیں لیا ہے، لیکن معاہد ہ کے حساب سے کسی بھی حالت میں قبضہ ملنے تک ہم یہ فلیٹ کسی کو بیچ سکتے ہیں نہ ہی کسی اور کو ٹرانسفر کرسکتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا بقیہ پچاس فیصد رقم ہمارے اوپر قرض سمجھا جائے گا؟پچاس فیصد رقم اداکرنے کے بعد ہمارے پاس کچھ پیسے ہیں (زیورات اور نقد)جس سے ہم صاحب نصاب بنتے ہیں، کیا ہمیں اس پر زکاة دینی ہوگی یا نہیں؟کیوں کہ ہم نے سناہے کہ جب آپ کے اوپر قرض ہو تو زکاة نہیں دینی واللہ اعلم۔ 
    (۲) ہم نے اپنے دوست کو کچھ رقم ادھار دی ہے اور واپس ہونے کی امید بھی ہے۔ اس صورت میں اس رقم کی زکاة کس کے ذمہ ہوگی؟جو استعمال کررہا ہے اس کے یا جس نے بغیر سود کے قرض دی ہے اس کے؟

    جواب نمبر: 28048

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 9=8-1/1432

    فلیٹ کی خریداری کا معاملہ مکمل ہوچکا، آپ نے پچاس فیصد رقم ادا بھی کردی، البتہ مکمل مالکانہ حقوق معاہدہ کے تحت بقیہ رقم ادا کرنے کے بعد حاصل ہوں گے تو ایسی صورت میں آپ بقیہ پچاس فیصد رقم کے مقروض ہوئے اور صاحب نصاب کے پاس موجود مالیت میں سے قرض منہا کرنے کے بعد بقیہ رقم (سونے چاندی) پر زکاة واجب ہوتی ہے۔ لہٰذا قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد (سونے چاندی وغیرہ) کی قیمت زائد بچتی ہے تو اس پر زکاة ہے ورنہ نہیں۔ لیکن بہتر ہے کہ ایک سال کی قسطیں جتنی ہوتی ہیں، اتنی ہی رقم بطور قرض منہا کریں اس کے بعد جو مالیت بچے اس پر زکاة ادا کردیں، یہ زیادہ محتاط اور بہتر بات ہے۔ 
    (۲) آپ کے ذمہ اس کی زکاة واجب ہوگی۔ حدیث میں ہے قرض دینے پر اٹھارہ گنا ثواب ملتا ہے اور صدقہ کرنے میں دس گنا ثواب ملتا ہے اور قرض میں وعدہ کے وقت تک مہلت دینے میں ہرروز اتنے روپئے صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ اور ادائیگی کے لیے اگر مزید مہلت دی جاتی ہے تو ہرروز اتنی رقم (قرض میں دی ہوئی رقم) سے دوگنی رقم صدقہ کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔ (ترغیب وترہیب للمنذری)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند