• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 27401

    عنوان:  یہ مسئلہ معلوم کرنا چاہتاہوں کہ ایک پیپر(کاغذ) مل مالک ردی پیپر نقد ایک روپئے اور ادھار سو روپئے میں خریدتاہے ۔ اگر مل مالک کسی دوسرے سے پیسے لے کر دس روپئے کے حساب سے پیپر خریدتاہے اور جس سے پیسہ لیا تھا اسے دیڑھ مہینے بعد سوا دس کے حساب سے پیسہ دے گاتو اس صورت میں اس کو (جس نے پیسے لگائے ہیں پچیس پیسہ فی کلو کا منافع ہوگا)تو یہ صورت جائزہے یا نہیں؟
    فرض کیجئے کہ زید مل مالک ہے اور امر سے دس ہزار کلو ردی پیپر خرید رہا ہے اور بکر سے مل مالک پیسے لے کر امر کو دس روپئے کلو کے حساب سے پیسے دے رہا ہے ، اب زید (مل مالک)دیڑ مہینے بعد بکرکو (جس سے پیسے لیاتھا)سوا دس روپئے کے حساب سے دے گاتو اس صورت میں پچیس پیسہ فی کلو کا منافع لینا بکر کے لیے جائز ہے یا نہیں؟اس صورت میں پچیس پیسہ فی کلو کا منافع بکر کے لیے سود تو نہیں ہوگا؟نیز اگریہ جائزہے تو یہ بتائیں کہ یہ کونسی قسم ہوگی؟اس طرح کچھ لوگ مل کر بزنس کررہے ہیں اور پیسے لگاکر منافع کمارہے ہیں۔ میں نے چاہا کہ مسئلہ معلوم کرلوں۔ براہ کرم، جواب دیں ۔ میں ڈیڑھ مہینے کی لمبی مدت سے مسئلہ سے ناواقف ہونے کی وجہ سے کہ کہیں یہ گناہ کا سبب نہ بن جائے ، اس میں شریک نہیں ہوا ہوں۔

    سوال:  یہ مسئلہ معلوم کرنا چاہتاہوں کہ ایک پیپر(کاغذ) مل مالک ردی پیپر نقد ایک روپئے اور ادھار سو روپئے میں خریدتاہے ۔ اگر مل مالک کسی دوسرے سے پیسے لے کر دس روپئے کے حساب سے پیپر خریدتاہے اور جس سے پیسہ لیا تھا اسے دیڑھ مہینے بعد سوا دس کے حساب سے پیسہ دے گاتو اس صورت میں اس کو (جس نے پیسے لگائے ہیں پچیس پیسہ فی کلو کا منافع ہوگا)تو یہ صورت جائزہے یا نہیں؟
    فرض کیجئے کہ زید مل مالک ہے اور امر سے دس ہزار کلو ردی پیپر خرید رہا ہے اور بکر سے مل مالک پیسے لے کر امر کو دس روپئے کلو کے حساب سے پیسے دے رہا ہے ، اب زید (مل مالک)دیڑ مہینے بعد بکرکو (جس سے پیسے لیاتھا)سوا دس روپئے کے حساب سے دے گاتو اس صورت میں پچیس پیسہ فی کلو کا منافع لینا بکر کے لیے جائز ہے یا نہیں؟اس صورت میں پچیس پیسہ فی کلو کا منافع بکر کے لیے سود تو نہیں ہوگا؟نیز اگریہ جائزہے تو یہ بتائیں کہ یہ کونسی قسم ہوگی؟اس طرح کچھ لوگ مل کر بزنس کررہے ہیں اور پیسے لگاکر منافع کمارہے ہیں۔ میں نے چاہا کہ مسئلہ معلوم کرلوں۔ براہ کرم، جواب دیں ۔ میں ڈیڑھ مہینے کی لمبی مدت سے مسئلہ سے ناواقف ہونے کی وجہ سے کہ کہیں یہ گناہ کا سبب نہ بن جائے ، اس میں شریک نہیں ہوا ہوں۔

    جواب نمبر: 27401

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 2679=1070-11/1431

    بکر سے رقم لینا قرض ہے اور زیادہ رقم واپسی کا معاملہ سود ہے کہ جو حرام ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند