• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 22470

    عنوان: میرا سوال ہے کہ قسطوں پر کار دینے والوں کو جب کار کی پوری قسط اپنے وقت پر نہیں ملتی ہے تو وہ لوگ کار زبردستی واپس لے لیتے ہیں اور اس کا پیسہ واپس نہیں کرتے ہیں۔ بعد میں اس کار کو دوسرے کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں۔ اور اپنی بقایا رقم نکال لیتے ہیں۔ خریدنے والے کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اسے کار سستی ملتی ہے۔ تو کیا یہ سودا حرام ہے یا حلال ہے؟

    سوال: میرا سوال ہے کہ قسطوں پر کار دینے والوں کو جب کار کی پوری قسط اپنے وقت پر نہیں ملتی ہے تو وہ لوگ کار زبردستی واپس لے لیتے ہیں اور اس کا پیسہ واپس نہیں کرتے ہیں۔ بعد میں اس کار کو دوسرے کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں۔ اور اپنی بقایا رقم نکال لیتے ہیں۔ خریدنے والے کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اسے کار سستی ملتی ہے۔ تو کیا یہ سودا حرام ہے یا حلال ہے؟

    جواب نمبر: 22470

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب):936=748-6/1431

    جب قسط وار ایک شخص کے ہاتھ فروخت کردی اور برابر قسط وار روپئے ادا کررہا ہے تو وہ کار اس کی ملک ہوگئی، ایک آدھ قسط کی عدم ادائیگی کی صورت میں کار کو خریدار سے زبردستی لے لینا پھر اس کار کا واپس نہ کرنا یہ بہت بڑے ظلم کی بات ہے، اور پھر اس کے پیسے واپس نہ کرنا یہ ظلم درظلم ہے پھر کسی اور کے ہاتھ فروخت کردینا یہ مزید ظلم کی بات ہے، پہلے خریدار سے بھی پیسے لیے اور دوسرے خریدار سے بھی پیسے لیے، یہ فعل قطعاً ناجائز وحرام ہے۔ 


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند