• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 21204

    عنوان:

     ایک جگہ سے مجھ کورقم ملی تھی، میں نے وہ رقم استعمال کر لی جب کہ مجھے پتا تھا کہ وہ رقم کسی کی ہے، بعد میں مجھے برامحسوس ہوا، اب میں چاہتا ہوں کہ وہ رقم جس کی ہے میں اسے واپس کردوں اور معافی مانگ لوں ، مگر مسئلہ یہ ہے کہ جس بندے کی وہ رقم تھی وہ دو نمبر کا کام کرتا ہے یعنی اس کے ذرائع آمدنی ٹھیک نہیں ہے۔ اب اگر میں جا کر اس سے اپنے کئے پہ معافی مانگتا ہوں تو اس بات کا غالب گمان ہے کہ وہ گم شدہ رقم سے کئی گنا زیادہ بتائے اور مجھ پہ کوئی پولس کیس وغیرہ کر دے، تو اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟

    سوال:

     ایک جگہ سے مجھ کورقم ملی تھی، میں نے وہ رقم استعمال کر لی جب کہ مجھے پتا تھا کہ وہ رقم کسی کی ہے، بعد میں مجھے برامحسوس ہوا، اب میں چاہتا ہوں کہ وہ رقم جس کی ہے میں اسے واپس کردوں اور معافی مانگ لوں ، مگر مسئلہ یہ ہے کہ جس بندے کی وہ رقم تھی وہ دو نمبر کا کام کرتا ہے یعنی اس کے ذرائع آمدنی ٹھیک نہیں ہے۔ اب اگر میں جا کر اس سے اپنے کئے پہ معافی مانگتا ہوں تو اس بات کا غالب گمان ہے کہ وہ گم شدہ رقم سے کئی گنا زیادہ بتائے اور مجھ پہ کوئی پولس کیس وغیرہ کر دے، تو اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟

    جواب نمبر: 21204

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 483=483-4/1431

     

    اگر ایسا اندیشہ ہے کہ رقم کئی گنا زیادہ بتلائے گا اور کیس وغیرہ بھی کردے گا تو وہ رقم اس بندے کو ہدیہ تحفہ کے نام سے دیدیجے اور دل میں قرض یا امانت کی ادائیگی کی نیت کرلیجیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند