• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 2053

    عنوان:

    میں ایک کمپنی میں کام کرتاہوں، وہ مجھے اچھی رقم دے رہے ہیں ۔ میرے جنرل منیجیر نے ایک نئی کمپنی کھولی ہے، وہ مجھ سے اپنی کمپنی کے لیے بھی کچھ کام کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں ، میں اس کی کمپنی کے لیے کچھ کام کررہاہوں اور وہ مجھے رقم بھی دے رہے ہیں مگر باضابطہ نہیں۔ وہ اپنی یہ کمنپی والد کی کمپنی سے چھپارہے ہیں ۔ برا ہ کرم، میر ی رہ نمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں؟

    سوال:

    میں ایک کمپنی میں کام کرتاہوں، وہ مجھے اچھی رقم دے رہے ہیں ۔ میرے جنرل منیجیر نے ایک نئی کمپنی کھولی ہے، وہ مجھ سے اپنی کمپنی کے لیے بھی کچھ کام کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں ، میں اس کی کمپنی کے لیے کچھ کام کررہاہوں اور وہ مجھے رقم بھی دے رہے ہیں مگر باضابطہ نہیں۔ وہ اپنی یہ کمنپی والد کی کمپنی سے چھپارہے ہیں ۔ برا ہ کرم، میر ی رہ نمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں؟

    جواب نمبر: 2053

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 795/ د= 766/د

     

    پہلی کمپنی میں کام کرتے ہوئے دوسری کمپنی میں کام کرنے سے اس کا کوئی حرج نہیں ہورہاہے اور نہ ہی آپ نے ایسا کوئی معاہدہ کیا ہے کہ دوسری کسی کمپنی میں کام نہیں کریں گے تو شرعاً دوسری کمپنی میں پہلی کمپنی کے اوقات مقررہ کے علاوہ وقت میں کام کرنا آپ کے لیے جائز ہے۔ لیکن بسا اوقات آدمی کااعتماد مجروح ہوتا ہے اور جو بھروسہ پہلی کمپنی کو آپ پر ہے اس میں کمی آنے کی وجہ سے معاملات میں فرق پڑجاتا ہے لہٰذا اگر اس بات کا اندیشہ ہو تو دوسری کمپنی میں کام نہ کرنا بہتر ہے۔

    اوراگر ضابطہ میں پہلی کمپنی سے ایسا کوئی معاملہ یا معاہدہ طے ہے کہ دوسری کسی کمپنی میں آپ کو کام کرنے کی اجازت نہ ہوگی تو ایسی صورت میں بدون پہلی کمپنی کی اجازت کے دوسری کمپنی میں کام کرنا جائز نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند