• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 1985

    عنوان:

    میں پاکستانی ہوں، متحدہ عرب امارات میں رہتاہوں ۔ ایک شخص ایک کار بیچ رہاہے، وہ کہتاہے کہ اس کار کے لیے دوسرا شخص کیش ۲۸۰۰۰/ روپئے دینے کے لیے تیارہے لیکن میں پانچ -چھ مہینے کی قسطوں میں یہ کار خرید نا چاہتاہوں تو اس صورت میں وہ اس کار کو ۳۰۰۰۰/ روپئے بیچے گا۔ کیایہ اضافی رقم سود ہوگی؟ کیا اس کا دینا جائزہے؟ براہ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں۔

    سوال:

    میں پاکستانی ہوں، متحدہ عرب امارات میں رہتاہوں ۔ ایک شخص ایک کار بیچ رہاہے، وہ کہتاہے کہ اس کار کے لیے دوسرا شخص کیش ۲۸۰۰۰/ روپئے دینے کے لیے تیارہے لیکن میں پانچ -چھ مہینے کی قسطوں میں یہ کار خرید نا چاہتاہوں تو اس صورت میں وہ اس کار کو ۳۰۰۰۰/ روپئے بیچے گا۔ کیایہ اضافی رقم سود ہوگی؟ کیا اس کا دینا جائزہے؟ براہ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 1985

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 700/ د= 696/ د

     

    جب آپ تیس ہزار میں چھ مہینے کی قسطوں میں ادا کرنے کی شرط پر کار خریدنے کا معاملہ کریں گے تویہ صورت جائز ہے اور اضافی رقم سود نہیں ہوگی۔ اس رقم کا آپ کا دینا اور بائع کا لینا جائز ودرست ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند