• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 179786

    عنوان: ایڈوانس رقم سے پینٹ یا دھلائی کی مزدوری کے پیسے کاٹنا

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مذکورہ مسئلہ کے بارے میں؟ میں نے ایک مکان کرائے پر لیا۔ کرائے پر لیتے ہوئے میرے اور مالک مکان کے درمیان یہ بات طے ہوئی تھی کہ جس حالت میں مکان لے رہا ہوں اسی حالت میں واپس کرونگا۔ اس مکان میں ,میں پونے پانچ برس رہا۔ میرے مکان خالی کرنے کے بعد مالک مکان کا کہنا یہ ہے کہ گھر کا پینٹ خراب ہوگیا ہے ۔ حالانکہ میرے کرائے پر لینے سے پہلے مکان کئی برس سے بند تھا اور رنگ میں قدرتی طور پر تغیر آہی گیا تھا۔ اور پھر جو رنگ چھت یا ہاتھوں کی پہنچ سے دور بلندی کا ہے وہ تو قدرتی طور پر ہی خراب ہوا ہے اور اس کے خراب ہونے میں کسی کا کوئی دخل نہیں۔ اب صرف نیچے کا پینٹ خراب ہے اور پھیکا پڑ کر پرانا ہوگیا ہے ,جسے دھو کر بھی صاف کیا جاسکتا ہے ۔ الف: اب مکان مالک کا اس صورت اس ایڈوانس سے جو کرائے پر مکان لیتے ہوئے اسے میں نے دیا تھا اس میں سے نیا رنگ کرانے کیلئے پیسے کاٹنا کیسا ہے ؟ ب: اور کیا مالک مکان نیچے کے رنگ کو دھونے کی جو مزدوری ہے اس کو کاٹنے کا مجازہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 179786

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:69-79/sd=3/1442

     صورت مسئولہ میں جو شرط طے ہوئی تھی وہ فاسد تھی، لہٰذا مالک مکان کا ایڈوانس رقم سے پینٹ یا دھلائی کی مزدوری کے بقدر پیسے کاٹنا جائز نہیں ہے۔ قال في الہندیة (۴/۴۴۳، زکریا) أو شرط علیہ أن یردہا بلا عیب أو شرط علیہ ضمان العین لو ہلکت أو تعیبت ․․․ ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند