• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 179725

    عنوان:

    گاڑی کرایہ پر دے کر آدھا آدھا نفع مقرر کرنے کا حکم

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہء ذیل کے بارے میں کہ: ایک آدمی نے اپنی گاڑی (ماروتی وین) ایک دوسرے شخص کو چلانے کے لئے دی اور کہا جو منافع ہوگا وہ ہمارے درمیان آدھا آدھا، اور پٹرول کا خرچہ تمہارے ذمہ، دوسرے نے قبول کر لیا، کچھ دنوں کے بعد گاڑی چلانے والا کسی تیسرے شخص سے کہتا ہے مجھے گاڑی دور بھی لے جانا پڑتا ہے مجھے زیادہ کچھ بچتا نہیں ہے میں کیا کروں؟ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ عقد صحیح ہے یا فاسد اور اصلا اس عقد کو کیا نام دینگے شرکت مضاربت یا اجارہ وغیرہ اگر یہ عقد صحیح ہے تو کیا گاڑی چلانے والا منافع میں اپنا حصہ بڑھانے کی مانگ کر سکتا ہے ، نیز پٹرول کا خرچہ صرف گاڑی چلانے والے کے ذمہ ہونا صحیح ہے یا گاڑی کے مالک پر بھی ہوگا؟ اگر یہ عقد صحیح نہیں ہے تو جائز صورت کیا ہوگی ؟اس کی رہنمائی فرما دیں عین نوازش ہوگی۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے ،آمین

    جواب نمبر: 179725

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:7-6/N=01/1442

     (۱- ۵): کسی شخص کو اپنی گاڑی، عوض پر چلانے کے لیے دینا اجارہ ہے، شرکت یا مضاربت نہیں ؛ البتہ صورت مسئولہ میں جس طریق پر اجرت کا تعین کیا گیا ہے، وہ جہالت کا باعث ہے؛ کیوں کہ گاڑی چلاکر کس قدر نفع ہوگا؟ معلوم نہیں، نیز جو چیز اجیر کے عمل سے حاصل ہو، اس سے اجرت کا تعین بھی درست نہیں ہوتا؛ لہٰذا یہ اجارہ، فاسد ہے۔ صحیح صورت یہ ہے کہ اجرت دو ٹوک طریقہ پر متعین کی جائے، مثلاً ماہانہ دس ہزار روپے یا فی کلو میٹر ۳/روپے۔

    وشرطھا کون الأجرة والمنفعة معلومتین؛ لأن جھالتھما تفضي إلی المنازعة (الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الإجارة، ۹:۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

    (تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضی العقد………)کجھالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل (المصدر السابق، ص ۶۴)۔

    (ولو دفع غزلا لآخر لینسجہ لہ بنصفہ) أي: بنصف الغزل (أو استأجر بغلا لیحمل طعامہ ببعضہ أو ثورا لیطحن برہ ببعض دقیقہ) فسدت فی الکل؛ لأنہ استأجرہ بجزء من عملہ، والأصل في ذلک نھیہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قفیز الطحان (المصدر السابق، ص ۷۸، ۷۹)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند