• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 17860

    عنوان:

    میں کراچی میں رہ رہا ہوں اور ایک کمپنی میں کام کررہاہوں جو کہ بادن ضلع میں ( کراچی سے ایک سو ساٹھ کلومیٹر دور) تیل اور گیس کی دریافت کا کام کرتی ہے۔ میں اس کمپنی میں 1998سے (یعنی گیارہ سال سے ) کام کررہا ہوں۔ اس کمپنی کی ملازمت کو ترک کرنے کی صورت میں چاہے کمپنی کی طرف سے ہو یا ملازم کی طرف سے ایک مہینہ کی نوٹس سے مربوط ہے ۔ ملازمت کے معاہدہ میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ کمپنی مختصر مدتی نوٹس پر کسی بھی ملازم کو پاکستان کے کسی بھی علاقہ میں مثلاً کراچی، اسلام آباد یا اپنی فیلڈ آفسوں میں بادن یا میر پور خاص، مٹیاری (حیدرآباد) ضلع وغیرہ میں بھیج سکتی ہے۔ کمپنی کے بادن ضلع میں تین اور ضلع میرپور خاصل مٹیاری (حیدرآباد ) میں ایک رہائشی کیمپ ہے۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں اور کام کو پورا کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر روزانہ سفر کرنا پڑتا ہے جو کہ بیس( بنیادی) کیمپ سے کم سے کم پانچ کلو میٹر او رزیادہ سے زیادہ سو کلومیٹرآگے ہوسکتا ہے۔...

    سوال:

    میں کراچی میں رہ رہا ہوں اور ایک کمپنی میں کام کررہاہوں جو کہ بادن ضلع میں ( کراچی سے ایک سو ساٹھ کلومیٹر دور) تیل اور گیس کی دریافت کا کام کرتی ہے۔ میں اس کمپنی میں 1998سے (یعنی گیارہ سال سے ) کام کررہا ہوں۔ اس کمپنی کی ملازمت کو ترک کرنے کی صورت میں چاہے کمپنی کی طرف سے ہو یا ملازم کی طرف سے ایک مہینہ کی نوٹس سے مربوط ہے ۔ ملازمت کے معاہدہ میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ کمپنی مختصر مدتی نوٹس پر کسی بھی ملازم کو پاکستان کے کسی بھی علاقہ میں مثلاً کراچی، اسلام آباد یا اپنی فیلڈ آفسوں میں بادن یا میر پور خاص، مٹیاری (حیدرآباد) ضلع وغیرہ میں بھیج سکتی ہے۔ کمپنی کے بادن ضلع میں تین اور ضلع میرپور خاصل مٹیاری (حیدرآباد ) میں ایک رہائشی کیمپ ہے۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں اور کام کو پورا کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر روزانہ سفر کرنا پڑتا ہے جو کہ بیس( بنیادی) کیمپ سے کم سے کم پانچ کلو میٹر او رزیادہ سے زیادہ سو کلومیٹرآگے ہوسکتا ہے۔اس بنیادی کیمپ سے دوسری جگہ پر سفر کرنے کے لیے کسی بھی فرد کو کسی دوسرے کیمپ میں ایک رات کے لیے کسی دن تاخیر ہونے کی وجہ سے اور بنیادی کیمپ میں پہنچنے سے معذور ہونے کی وجہ سے ٹھہرنا پڑسکتا ہے۔ پہلے یعنی (1998سے اپریل 2009) تک ہم سولہ دن کی ڈیوٹی کے دنوں میں (368گھنٹے) کام کرتے تھے اور چودہ دن کی چھٹی ہوتی تھی۔ ہم نے اس ٹائم ٹیبل پر تقریباً دس سال تک کام کیا۔ اپریل 2009سے کمپنی نے کام کی ترتیب کو سولہ دن کی ڈیوٹی یعنی (368گھنٹے) کو چودہ دن کی ڈیوٹی یعنی (340گھنٹے)کام کی سائیکل سے تبدیل کردیا ہے اور چودہ دن کی چھٹی۔ چھٹی کے دنوں میں ہماری کچھ ذاتی چیزیں جیسے کپڑے، جوتے وغیرہ ہمارے کام کرنے کی جگہ پر ہم کو الاٹ کی گئی الماری ( جو کہ لاک ہوتی ہے اور چابی ہر اس شخص کے پاس ہوتی ہے جس کو وہ الماری الاٹ کی گئی ہوتی ہے)میں رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ کمپنی کے ایک کیمپ میں دو مسجدیں بھیموجود ہیں۔یہاں اطراف میں گاؤں بھی ہیں۔ان میں سے ایک مسجد میں جمعہ اور عید کی نماز نیز رمضان کے مہینہ میں تراویح بھی ہوتی ہے۔اوپر مذکور صورت اور شرط پر مبنی قصر نماز کے تعلق سے میرے سوالات ہیں: (۱)اوپر مذکور صورت حال میں اور کمپنی کے ساتھ ملازمت کی میعاد میں کیا ہم قصر نماز ادا کریں گے؟ (۲)اگر کوئی ملازم کام کرنے کی جگہ سے اپنی چودہ دن کی چھٹی پر روانہ ہوتے وقت اپنا پورا ذاتی سامان اپنے ساتھ گھر واپس لے جاتا ہے تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ کیا اس کو قصر نماز اد ا کرنی ہوگی پوری نماز پڑھنا ہوگا؟ (۳)اگر کوئی ملازم اپنے بنیادی کیمپ میں چودہ دن کام کرتا ہے یعنی تین سو چالیس گھنٹہ اور دوسری جگہ پر نہیں جاتا ہے اور صرف بنیادی کیمپ میں اپنی ڈیوٹی پوری کرتا ہے تواس صورت میں کیا حکم ہے؟ کیا وہ قصر کرے گا یا پوری پڑھے گا؟ (۴)کیا ہم کو اوپر مذکور صورت میں سنت ، تراویح، جمعہ، عیدین کی نمازیں پڑھنا چاہیے؟ (۵)کیا ہم اوپر مذکور صورت میں نمازوں کو ملائیں گے؟ والسلام

    جواب نمبر: 17860

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب):2034=452tb-12/1430

     

    (۱) جب کراچی سے اپنے کام کرنے والی کمپنی میں جائیں گے تو اگر 15 دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہے تو آپ مسافر رہیں گے، اور قصر نماز پڑھیں گے۔ اور 15 دن یا اس سے زیادہ رہنے کا ارادہ کرلیا ہے تو آپ مقیم ہوجائیں گے اور نماز پوری پڑھیں گے، اسی طرح کمپنی سے باہر اگر 77.14 کلومیٹر کے لیے آپ نے سفر کیا تو کمپنی اور اس کے مضافات سے نکلنے کے بعد آپ مسافر ہوجائیں گے اور قصر نماز پڑھیں گے۔ چودہ دن کی چھٹی میں گھر جاتے وقت راستہ میں دو ہی رکعت پڑھیں گے، ہاں اپنے وطن اصلی پر پہنچ کر پوری پڑھیں گے۔

    (۲) اگر جائے ملازمت میں صرف 14 دن کام کے لیے ٹھہرنا ہوگا توایسی صورت میں وہ مسافر رہے گا اور اسے قصر نماز پڑھنی ہوگی۔

    (۳) قصر کرے گا۔

    (۴) اگر کمپنی کے کسی قصبہ میں یا ایسے بڑے گاوٴں میں ہے جہاں کی آبادی 4-5 ہزار کی آبادی ہے اور وہاں روز مرہ کی تمام چیزیں دستیاب ہیں تو وہاں جمعہ کی اور عیدین کی نماز پڑھیں گے ورنہ صرف ظہر پڑھیں گے۔ اور سب نماز پڑھ سکتے ہیں، فرض واجب، سنت، نفل تراویح سب ہی نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔

    (۵) جی نہیں! ہرنماز اپنے وقت پر پڑھنی چاہیے، احناف کے نزدیک دو نمازوں کو ایک جگہ پڑھنا درست نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند