• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 17464

    عنوان:

    میں سعودی عرب میں رہتاہوں۔ میرے کفیل (سعودی) کی ایک دوا کی دکان ہے جو میں ٹھیکہ پر لینا چاہتاہوں۔ اس دکان سے ہر مہینے جو منافع ہوگا اس میں سے تین ہزار ریال کفیل کو دے کر جو بچے گا وہ خود لینا ہے۔در اصل مسئلہ یہ ہے کہ سعودی میں خود اپنا کاروبار نہیں کرسکتے۔ کیا میں ایسا کرسکتاہوں؟ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ میں اپنا پیسہ لگا کر کفیل کے نام سے دکان کروں اوراس کو کفالت کے طور پر مہینے کا دو سو ریال کے حساب سے دیا کروں، اس صورت میں پونجی او رمنافع دونوں میرا ہوگا۔ اس صورت میں کفالت کے طور پر پیسہ دینا جائز ہے یا نہیں؟ برائے کرم میری رہنمائی جلد سے جلد کریں۔

    سوال:

    میں سعودی عرب میں رہتاہوں۔ میرے کفیل (سعودی) کی ایک دوا کی دکان ہے جو میں ٹھیکہ پر لینا چاہتاہوں۔ اس دکان سے ہر مہینے جو منافع ہوگا اس میں سے تین ہزار ریال کفیل کو دے کر جو بچے گا وہ خود لینا ہے۔در اصل مسئلہ یہ ہے کہ سعودی میں خود اپنا کاروبار نہیں کرسکتے۔ کیا میں ایسا کرسکتاہوں؟ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ میں اپنا پیسہ لگا کر کفیل کے نام سے دکان کروں اوراس کو کفالت کے طور پر مہینے کا دو سو ریال کے حساب سے دیا کروں، اس صورت میں پونجی او رمنافع دونوں میرا ہوگا۔ اس صورت میں کفالت کے طور پر پیسہ دینا جائز ہے یا نہیں؟ برائے کرم میری رہنمائی جلد سے جلد کریں۔

    جواب نمبر: 17464

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل):2011=1596-1/1431

     

    (۱) تجارت کی پہلی شکل جائز نہیں کیونکہ شرکت یا مضاربت میں ایک شریک یا ربُ المال کا متعینہ نفع لینا جائز نہیں، البتہ اگر یہ شکل کرلی جائے کہ نفع سے فیصد متعین کردیا جائے مثلاً جتنا نفع ہوگا اس کا پچاس فیصد یا 75 فیصد تمہارا (کفیل) کا ہوگا تو یہ شکل جائز ہوسکتی ہے۔

    (۲) کفالت کے روپے مالک (کفیل) کیوں لیتا ہے، کیا سعودی میں اسی طرح کا قانون ہے اس کی وضاحت کرکے دوبارہ استفتاء ارسال کریں، پھر ان شاء اللہ تعالیٰ جواب دیا جائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند