• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 173450

    عنوان: قرضے کی رقم کے بدلے زمین دینا

    سوال: کیا فرماتے ہیں حضرات علماء کرام دامت برکاتہم مسئلہ ذیل کے بارے میں زید ایک دینی مدرسے کا ذمہ دار ہے اس نے قرض لے کر ایک زمین خریدی، لیکن معینہ مدت میں قرض کی ادائیگی کا انتظام نہیں کرسکا قرض دہندہ کے بار بار تقاضے سے پریشان ہوکر اس نے (مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے) مدرسے کے پیسے سے قرض ادا کردیا اور سوچا کہ بعد میں ادا کردوں گا. لیکن ابھی تک ادائیگی کی صورت نہیں بن پائی، اب وہ چاہتا ہے کہ جلد سے جلد مدرسے سے لئے ہوے قرض کو ادا کرے، لیکن نقد رقم اس کے پاس نہیں ہے البتہ اس کے پاس کچھ زمینیں ہیں جسے وہ قرض کے عوض مدرسے میں دے کر اپنی گلو خلاصی کرنا چاہتا ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ جو نقد رقم اس نے مدرسے سے قرض لیاتھا اس کے برابر قیمت کی زمین مدرسے میں دے دینے سے وہ بری الذمہ ہوجائے گا یا نہیں؟ یا زمین کو بیچ کر نقد رقم ادا کرنی پڑے گی؟ *مثلازید نے دس لاکھ روپئے قرض لئے تھے اب اس وقت اس کے پاس اتنی رقم نہیں ہے جس سے قرض کی ادائیگی ہوسکے البتہ زمین ہے جس پرکاشت ہوتی ہے،زید قرض کی ادائیگی کے لئے دس لاکھ مالیت کی اپنی زمین مدرسے میں دے کر بری ہونا چاہتا ہے،تو کیا نقد رقم کے عوض وہ اتنی مالیت کی زمین مدرسے میں دیدے تو براء ت ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اور ادائیگی کی یہ شکل شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ * ایک دوسرے مفتی صاحب سے معلوم کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ زمین دینے سے قرض ادا نہ ہوگا،بلکہ زمین بیچ کر نقد رقم ادا کرنا ضروری ہے۔ امید ہے کہ دلائل شرعیہ کی روشنی میں صورت مسئولہ کا صحیح اور واضح حکم بیان فرماکر احسان فرمائیں گے۔ بینواوتوجروا

    جواب نمبر: 17345001-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:64-38T/B=3/1441

    اس کے لیے ضروری یہی ہے کہ اپنی زمین فروخت کرکے مدرسہ کے پیسے ادا کرے۔

    ------------------------

    جواب صحیح ہے البتہ مزید عرض ہے کہ زید توبہ واستغفار بھی کرے؛ کیوں کہ کسی ذمہ دار مدرسہ کا مدرسہ کا پیسہ اپنے کسی ذاتی استعمال میں میں لانا جائز نہیں ہے اور آئندہ اس طرح کی حرکتوں سے پرہیز کرے۔ (ن)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند