• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 16200

    عنوان:

    میں اپنے ایک رشتہ دار کی شادی میں شرکت کرنے کے لیے دوسرے شہر گیا۔ وہاں میں نے اپنی زوجہ کا سونا گھر کے مالک کو امانت دیا کہ وہ اپنی الماری کے لاکر میں اسے رکھے۔ کچھ دن بعد گھر کے مالک نے ایک ملازمہ رکھا، تو میری امی نے گھر کے مالک سے کہا کہ اس ملازمہ کا آئی ڈی کارڈ لو اور کسی کو ساتھ بھیج کر اس کا گھر بھی دیکھ لو کیوں کہ آج کل کسی کا اعتبار نہیں۔ لیکن گھر کے مالک نے سنی ان سنی کردی۔ تو دس دن کے اندر اس ملازمہ نے تمام زیور چوری کرلیے۔ اب میں اپنے زیور کا مطالبہ کرتی ہوں تو گھر کا مالک دینے سے انکار کرتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ان کی ایک او رملازمہ ان کے گھر چوری کرچکی ہے، اس کے باوجود مالک نے اتنی بڑی لاپرواہی کی۔ آپ بتائیں کہ میرا مطالبہ درست ہے یا نہیں؟

    سوال:

    میں اپنے ایک رشتہ دار کی شادی میں شرکت کرنے کے لیے دوسرے شہر گیا۔ وہاں میں نے اپنی زوجہ کا سونا گھر کے مالک کو امانت دیا کہ وہ اپنی الماری کے لاکر میں اسے رکھے۔ کچھ دن بعد گھر کے مالک نے ایک ملازمہ رکھا، تو میری امی نے گھر کے مالک سے کہا کہ اس ملازمہ کا آئی ڈی کارڈ لو اور کسی کو ساتھ بھیج کر اس کا گھر بھی دیکھ لو کیوں کہ آج کل کسی کا اعتبار نہیں۔ لیکن گھر کے مالک نے سنی ان سنی کردی۔ تو دس دن کے اندر اس ملازمہ نے تمام زیور چوری کرلیے۔ اب میں اپنے زیور کا مطالبہ کرتی ہوں تو گھر کا مالک دینے سے انکار کرتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ان کی ایک او رملازمہ ان کے گھر چوری کرچکی ہے، اس کے باوجود مالک نے اتنی بڑی لاپرواہی کی۔ آپ بتائیں کہ میرا مطالبہ درست ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 16200

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د):1778=261k-10/1430

     

    جب اس مالکہ کے گھر کی ملازم پہلے چوری کرچکی ہے تو آپ کو ایسی مالکہ کے پاس امانت رکھنے میں احتیاط کرنی چاہیے تھی، پہلی لاپرواہی تو خود آپ کی ہے، پھر بھی مالکہ کے پاس آپ نے امانت رکھ دیا اور اس نے حفاظت میں کوتاہی نہیں کی، تو امانت کا تاوان لینا یا اس کا مطالبہ کرنا آپ کے لیے درست نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند