• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 14779

    عنوان:

    اگر لین دین کا حساب بھول جائیں تو کس طرح معاملہ حل کیا جائے ،جیسے میری والدہ نے کچھ پیسے مکان بنانے کو دیا، حساب کرنے پر پتہ چلا کہ اس میں لین دین یاد نہیں رہا کہ کس کو کتنے پیسے دئے تھے ۔تو کیا کریں گے اور کس طرح سے حساب کتاب کریں، جب کہ صحیح حساب سمجھ میں نہ آرہا ہو؟

    سوال:

    اگر لین دین کا حساب بھول جائیں تو کس طرح معاملہ حل کیا جائے ،جیسے میری والدہ نے کچھ پیسے مکان بنانے کو دیا، حساب کرنے پر پتہ چلا کہ اس میں لین دین یاد نہیں رہا کہ کس کو کتنے پیسے دئے تھے ۔تو کیا کریں گے اور کس طرح سے حساب کتاب کریں، جب کہ صحیح حساب سمجھ میں نہ آرہا ہو؟

    جواب نمبر: 14779

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1276=1213/ب

     

    قرآن پاک میں ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب ہم قرض یاادھار کا معاملہ کریں تو اسے لکھ لیا کریں، اس سے حساب محفوظ ہوجاتا ہے، صورت مذکورہ میں جب آپ کی والدہ کو پیسوں کے دینے کا حساب یاد نہیں رہا تو کم سے کم سوچ لے اور وہ مقدار لے لے،تاکہ ان کے ذمہ پرایا مال لینے کھانے کا شبہ پیدا نہ ہو۔ یا ایسا کرے کہ جس کو پیسے دیئے تھے اس سے کہہ دے کہ جتنے پیسے تمھیں یاد ہوں دیدو، مجھے یاد نہیں رہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند