• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 12507

    عنوان:

    مفتی صاحب آپ کی خدمت میں میرا یہ سوال ہے کہ ہمارے آفس میں ایک قانون ہے کہ ساڑھے سات بجے کے بعد شام کا کھانا اوردوسری سہولیات کا الاؤنس ملتا ہے لیکن بوس کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ دے یا نہ دے۔ تو ایسی صورت حال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟(۲)دوسرا یہ کہ جیسے ہم سب کو کام کر تے کرتے دس بج جائے او رہمارا حاکم ہمیں ڈنر نہ کروائے لیکن ہم ڈنر کا بل بنا کر اکاؤنٹ آفس میں دے دیں او رڈنر کے پیسے لے کر آپس میں تقسیم کر لیں تو کیا یہ جائز ہوگا؟ (۳)تیسرا یہ کہ ہمارے آفس میں گیارہ بجے کے بعد ٹیکسی کا کرایہ ملتا ہے لیکن اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم لوگ دس بج کر پچاس منٹ پر بھی چلے جاتے ہیں تو پھر ہم لوگ اپنے واوچر میں گیارہ بجے یا اس سے زیادہ کا وقت لکھ کر ٹیکسی کا کرایہ لے لیتے ہیں تو کیا اس طرح کرایہ لینا جائز ہو گا؟ اب میں آپ کو اخیر میں صحیح سے اپنا سوال سمجھا دیتا ہوں۔ (۱)دفتر کے قانون کے مطابق کام کیا جائے لیکن پھر بھی کرایہ او رکھانا نہ ملے تو ایسی صورت حال میں ہم کو کیا کر نا چاہیے؟ (۲)ایسے کھانے کے پیسہ کا مطالبہ کرنا جس کو کھایا ہی نہ گیا ہو توکیا وہ پیسہ جائز ہوگا؟ (۳)ایسا ٹیکسی کا کرایہ کہ جب ٹیکسی میں سفر کیا ہی نہ گیا ہو یا گیارہ ہی نہ بجے ہوں تو کیا وہ پیسہ جائز ہوگا؟

    سوال:

    مفتی صاحب آپ کی خدمت میں میرا یہ سوال ہے کہ ہمارے آفس میں ایک قانون ہے کہ ساڑھے سات بجے کے بعد شام کا کھانا اوردوسری سہولیات کا الاؤنس ملتا ہے لیکن بوس کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ دے یا نہ دے۔ تو ایسی صورت حال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟(۲)دوسرا یہ کہ جیسے ہم سب کو کام کر تے کرتے دس بج جائے او رہمارا حاکم ہمیں ڈنر نہ کروائے لیکن ہم ڈنر کا بل بنا کر اکاؤنٹ آفس میں دے دیں او رڈنر کے پیسے لے کر آپس میں تقسیم کر لیں تو کیا یہ جائز ہوگا؟ (۳)تیسرا یہ کہ ہمارے آفس میں گیارہ بجے کے بعد ٹیکسی کا کرایہ ملتا ہے لیکن اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم لوگ دس بج کر پچاس منٹ پر بھی چلے جاتے ہیں تو پھر ہم لوگ اپنے واوچر میں گیارہ بجے یا اس سے زیادہ کا وقت لکھ کر ٹیکسی کا کرایہ لے لیتے ہیں تو کیا اس طرح کرایہ لینا جائز ہو گا؟ اب میں آپ کو اخیر میں صحیح سے اپنا سوال سمجھا دیتا ہوں۔ (۱)دفتر کے قانون کے مطابق کام کیا جائے لیکن پھر بھی کرایہ او رکھانا نہ ملے تو ایسی صورت حال میں ہم کو کیا کر نا چاہیے؟ (۲)ایسے کھانے کے پیسہ کا مطالبہ کرنا جس کو کھایا ہی نہ گیا ہو توکیا وہ پیسہ جائز ہوگا؟ (۳)ایسا ٹیکسی کا کرایہ کہ جب ٹیکسی میں سفر کیا ہی نہ گیا ہو یا گیارہ ہی نہ بجے ہوں تو کیا وہ پیسہ جائز ہوگا؟

    جواب نمبر: 12507

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 806=769/ل

     

    اگر اس شرط کے ساتھ آ پ نوکری میں داخل ہوئے تھے کہ کمپنی یا جس کے تحت آپ کام کررہے ہیں، وہ آپ کو محنتانہ بھی پیش کرے گا نیز الاوٴنس کے ساتھ ساتھ کھانا بھی دے گا تو پھر حسب معاہدہ محنتانہ کے ساتھ دونوں سہولت کی فراہمی کمپنی یا بوس کے لیے ضروری ہے۔

    (۲) اگر کمپنی کی طرف سے ڈنر کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا اور بوس ڈنر نہ کروائے تو پھر بوس کے ڈنر نہ کروانے کی صورت میں آپ متوسط درجہ کے ڈنر کے پیسے کی مانگ کرسکتے ہیں۔

    (۳) اگر رات کے گیارہ بجے کے بعد ہی ٹیکسی یا اس کا کرایہ کمپنی کی طرف سے دیا جاتا ہے تو پھر گیارہ بجے سے پہلے چلے جانے کی صورت میں کرایہ کا استحقاق نہیں ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند