• عبادات >> قسم و نذر

    سوال نمبر: 611398

    عنوان:

    تراویح نہ پڑھانے كی قسم كھانا

    سوال:

    سوال : ایک مولوی صاحب نے دوران رمضان المبارک میں مصلی پر کھڑے ہو کر کہا کہ اس سال مجھے قرآن مجید سنانے دیں اللّٰہ کی قسم آئیندہ میں کبھی نہ جمعہ اور نہ تراویح پڑھاؤں گا اب وہ تراویح کے لیے آئیں گے اس کاشرعی حکم کیا ہے؟

    جواب نمبر: 611398

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1018-820/D=09/1443

     اگر وہ امام تراویح كی نماز پڑھاتے ہیں تو لوگوں كی نماز ادا ہوجائے گی؛ البتہ امام صاحب كے قسم كھانے كی وجہ سے قسم كا كفارہ امام صاحب پر واجب ہوگا۔ وہ یہ كہ دس (10) مسكینوں كو ایك ایك جوڑا كپڑا بنادیں۔ یا دس (10) مسكینوں كو دونوں وقت پیٹ بھر كر كھانا كھلادیں یا صدقہ فطر كے بقدر ہر مسكین كو غلہ (پونے دو سیر گیہوں) یا اس كی قیمت دیدیں۔

    اور اگر كپڑا بنانے اور غلہ دینے كی وسعت نہ ہو خود بہت غریب ہیں تو تین دن مسلسل روزے ركھ لیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند