• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 9689

    عنوان:

    میں ایک بہت بڑے مسئلہ میں الجھ گیا ہوں۔ میرا نکاح 2005 میں ہوا تھا،پھر میری شادی 31دسمبر2007 میں ہوئی۔ لیکن شادی کے دن میری بیوی کو مہینہ آرہا تھامیں اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں کرسکا۔ بارات کے بعد ولیمہ ہوا پھر مکلاوہ(ایک رسم ہے ) تک میرا اس کا کوئی تعلق نہیں ہوسکا تھا۔ مکلاوہ سے اگلے دن وہ مجھے کہنے لگی کہ آپ مجھے میرے گھر یعنی لاہور لے جائیں۔ مجھے اپنے گھر والوں سے ملنا ہے، آ پ مجھے لے جائیں۔ میں اس کو اس کے گھر یعنی لاہور لے گیااور اگلے دن اس نے مجھے کہا کہ میں اپنی سہیلی سے مل کر آتی ہوں لیکن اس کا کچھ اتا پتہ نہ چلا۔ میں اور اس کی فیملی دو دن اور دو راتوں تک اس کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ بعد میں اس کی سہیلی کودھمکی دی تو میری بیوی دو دن اوردو رات کے بعد خود ہی مل گئی۔ اس کے پاس زیور اور پیسہ تھا تیس ہزار سے پینتیس ہزار وہ بھی ملا۔ اس نے کہا مجھے کسی نے اغوا کرلیا تھا اور میں وہاں سے بھاگ کر نکلی ہوں۔ پہلے تو کہتی کہ مجھے آپ(یعنی میں شوہر) نے اغوا کروایا ہے، تو میں گھبراگیا ۔ کچھ دن بعد مجھے پھر کہتی ہے کہ مجھے معاف کردیں مجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔ غلطی سے آپ کا نام نکل گیا میں بہت گھبراگئی تھی اس لیے مجھے معاف کردیں میں .............

    سوال:

    میں ایک بہت بڑے مسئلہ میں الجھ گیا ہوں۔ میرا نکاح 2005 میں ہوا تھا،پھر میری شادی 31دسمبر2007 میں ہوئی۔ لیکن شادی کے دن میری بیوی کو مہینہ آرہا تھامیں اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں کرسکا۔ بارات کے بعد ولیمہ ہوا پھر مکلاوہ(ایک رسم ہے ) تک میرا اس کا کوئی تعلق نہیں ہوسکا تھا۔ مکلاوہ سے اگلے دن وہ مجھے کہنے لگی کہ آپ مجھے میرے گھر یعنی لاہور لے جائیں۔ مجھے اپنے گھر والوں سے ملنا ہے، آ پ مجھے لے جائیں۔ میں اس کو اس کے گھر یعنی لاہور لے گیااور اگلے دن اس نے مجھے کہا کہ میں اپنی سہیلی سے مل کر آتی ہوں لیکن اس کا کچھ اتا پتہ نہ چلا۔ میں اور اس کی فیملی دو دن اور دو راتوں تک اس کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ بعد میں اس کی سہیلی کودھمکی دی تو میری بیوی دو دن اوردو رات کے بعد خود ہی مل گئی۔ اس کے پاس زیور اور پیسہ تھا تیس ہزار سے پینتیس ہزار وہ بھی ملا۔ اس نے کہا مجھے کسی نے اغوا کرلیا تھا اور میں وہاں سے بھاگ کر نکلی ہوں۔ پہلے تو کہتی کہ مجھے آپ(یعنی میں شوہر) نے اغوا کروایا ہے، تو میں گھبراگیا ۔ کچھ دن بعد مجھے پھر کہتی ہے کہ مجھے معاف کردیں مجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔ غلطی سے آپ کا نام نکل گیا میں بہت گھبراگئی تھی اس لیے مجھے معاف کردیں میں قرآن اٹھاکر کہتی ہوں ۔ میرے والدین نے کہا ہمارے سامنے قرآن مت اٹھاؤ اور ہمیں گناہ گار مت کرو، وہ میرے والدہ کی کزن ہے اور یتیم بھی اس لیے گھر والوں نے بیچ میں پڑ کر صلح کروادی اور میں اس کو گھر واپس لے آیا ۔ گھر دو مہنیہ رہنے کے بعد وہ واپس اپنے گھر گئی تو بعد میں جب اس کو لینے کے لیے گیا تو پاکستان میں ایک عورتوں کی تنظیم ہے ہیومن رائٹس اس کے پاس جاکر اسٹے لے لیا اور کہا کہ مجھ پر ظلم ہوتا ہے۔ میں نے اس سے خود پوچھا کہ تم کوکیا پریشانی ہے تو کہتی ہے کہ مجھے شوہر بیوی کے تعلق سے ڈر لگتا ہے ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے میں کچھ نہیں کہتا آپ میرے ساتھ چلو پر وہ نہ آئی۔ چھ ماہ بعد پھر ہماری صلح ہو گئی گھر والوں نے کروادی۔ اب وہ میرے پاس ہے اور حاملہ بھی ہے لیکن وہ میرے ساتھ کبھی کبھی جھوٹ بولتی ہے جس پر مجھے شک ہوتا ہے۔ برائے کرم میری رہنمائی فرماویں کہ میں کیا کروں؟

    جواب نمبر: 9689

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 37=40/ ل

     

    اولاً آپ اپنے دل سے اپنی بیوی کے سلسلے میں شک کو دل سے نکال دیں اور حکمت و نرمی سے اس کو سمجھانے کی کوشش کریں اور اگر تحفہٴ دلہن، کتاب کسی کتب خانہ سے مل جائے تو اس کو مطالعہ کے لیے دیدیں اور وقتاً فوقتاً دو رکعت نفل پڑھ کر اس کے اصلاح کے لے دعا کرتے رہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند