• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 8222

    عنوان:

    میں ایک ریٹائرڈ اسسٹنٹ پروفیسر ہوں اوردہلی میں رہتا ہوں،ذیل میں مذکور دو چیزوں کے بارے میں آپ کا مشورہ اورفتوی جاننا چاہتاہوں: (۱) میرے بھانجے کی لڑکی (جو کہ جے پور میں رہتی ہے)اس کی منگنی ایک ساؤتھ انڈین لڑکے کے ساتھ ہوئی تھی، لیکن کچھ عرصہ کے بعد لڑکی کے اصرار پر منگنی منسوخ کردی گئی۔ کچھ دنوں کے بعد لڑکی نے اپنے والدین کی مرضی کے بغیر دوبارہ اس لڑکے کے ساتھ تعلقات قائم کرلیے، جیسا کہ لڑکے کا دعوی ہے کہ ان دونوں نے لڑکی کے والدین کے علم کے بغیر دہلی میں شادی کرلی ہے۔۔۔۔؟؟؟

    سوال:

    میں ایک ریٹائرڈ اسسٹنٹ پروفیسر ہوں اوردہلی میں رہتا ہوں،ذیل میں مذکور دو چیزوں کے بارے میں آپ کا مشورہ اورفتوی جاننا چاہتاہوں: (۱) میرے بھانجے کی لڑکی (جو کہ جے پور میں رہتی ہے)اس کی منگنی ایک ساؤتھ انڈین لڑکے کے ساتھ ہوئی تھی، لیکن کچھ عرصہ کے بعد لڑکی کے اصرار پر منگنی منسوخ کردی گئی۔ کچھ دنوں کے بعد لڑکی نے اپنے والدین کی مرضی کے بغیر دوبارہ اس لڑکے کے ساتھ تعلقات قائم کرلیے، جیسا کہ لڑکے کا دعوی ہے کہ ان دونوں نے لڑکی کے والدین کے علم کے بغیر دہلی میں شادی کرلی ہے۔ ثبوت کے طور پر اس لڑکے نے نکاح نامہ کی ایک کاپی بھیجی۔ اس نکاح نامہ میں گواہوں اور مولوی یا قاضی جس نے نکاح پڑھایا تھا کی دستخط کے ساتھ ساتھ دلہن اوردولہے کے دستخط بھی موجود ہیں۔گھر کا بڑا ہونے کے ناطے میں نے اس معاملہ کی تحقیق کی اور قاضی اور تمام دستخط کرنے والوں کا پتہ چلایا۔ ان تمام لوگوں نے تصدیق کی کہ نکاح ان کی موجودگی میں پڑھایا گیا تھا اور لڑکی نے ان کی موجودگی میں دستخط کئے ہیں۔میں نے قاضی کا رجسٹر بھی چیک کیا اور اس میں تمام اندراج موجودہیں جو کہ سرٹیفیکٹ میں موجود ہیں۔ تاہم، بعد میں جب لڑکی کا سامنا ہوا تو اس نے تمام چیزوں کا انکار کردیا اور کہا کہ وہ کبھی بھی دہلی نہیں گئی اوران لوگوں سے کبھی ملاقات نہیں کیا ہے جن کے نام سرٹیفکٹ میں موجودہیں۔جہاں تک دستخط کا تعلق ہے تو اس نے دعوی کے ساتھ کہا ہے کہ اگر چہ یہ اس کے ہی دستخط تھے لیکن اس کواس بات کا علم نہیں ہے کہ وہ دستخط وہاں کیسے آئے۔ والدین نے بھی لڑکی کے اس بیان کو موزوں پایا اور تمام ثبوتوں کو نظر انداز کردیا۔ اب ان کو لڑکی کا ایک دوسرا رشتہ ملا ہے اوراس کے ساتھ منگنی کردی گئی ہے موجودہ نکاح کومذہبی یا قانونی کاروائی کے ذریعہ توڑے بغیر۔ ان حالات کے تحت کیا مذہبی اصول کی بنیاد پر دوسری شادی درست اورقابل قبول ہوگی؟ پہلے نکاح کوتوڑنے کا درست طریقہ کیا ہوگا اگر لڑکی اوراس کے والدین اس طریقہ کار کو اختیار کرنے کا فیصلہ کریں لڑکے کے دعوی کو نظر اندازکرتے ہوئے؟نکاح نامہ موجود ہے اور اگر آپ کی کمیٹی اس کی مانگ کرے گی تو پیش کیا جائے گا۔ (۲) چوں کہ میں نے لڑکی کے ایک چچا کے ساتھ مل کر تمام دستاویزات چیک کئے ہیں اوراس کے مستند ہونے کے بارے میں اپنے آپ کو مطمئن کر چکا ہوں۔ ہم اس بات کو لے کر بہت مشکل حالات میں ہیں کہ اس معاملہ میں ہمارا کیا کردا ر ہونا چاہیے؟ کیا ہم ان تمام کاروائی کے خاموش گواہ بنے رہیں یا بیچ میں آئیں اور لڑکی کے والدین کو شریعت کے بتائے ہوئے راستہ پر عمل کروانے کی کوشش کریں۔میں آپ کی کمیٹی کی رائے کا انتظار کروں گا اور جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو میں اس کے ذریعہ سے رہنمائی حاصل کروں گا۔

    جواب نمبر: 8222

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 2033=1667/ھ

     

    جب کہ آپ نے کاغذات چیک کرلیے اور شہاداتِ شرعیہ سے نکاح کا منعقد ہونا ثابت ہوگیا تو ایسی صورت میں آپ کی خاموشی جائز نہیں، بلکہ حرام ہے کیونکہ اس حالت میں دوسرا نکاح باطل وحرام ہوگا، نکاح کے بعد اگر شوہر طلاق بھی دیدے اور دونوں کے مابین یکجائی کی نوبت آگئی تو جب تک عدت مکمل نہ گذرجائے مذکورہ لڑکی کا عقد ثانی نہیں ہوسکتا، آپ کی ذمہ داری ہے کہ لڑکی کے والدین ودیگر اعزہ کو تمام حقیقت واقعیہ سے اچھی طرح باخبر کردیں، اور شریعت کاحکم بھی صاف صاف بتلادیں تاکہ خود لڑکی اور اس کے والدین نیز اعزہ اقرباء حرام میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہ سکیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند