• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 792

    عنوان:

    میں نے مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کی کتاب بہشتی زیور میں دیکھا: Â”اگر چہ نابالغ لڑکی کے ساتھ صحبت کے بعد اس پر غسل واجب نہیں ہوتا مگر عادت کے لیے غسل کروانا چاہیے۔“ اس بات پر میرے ایک دوست بہت ناراض ہوئے اور اہل حدیث کی باتوں میں آگئے۔ آپ مہربانی فرماکر حدیث یا فقہ کے ذریعہ میری رہبری فرمائیے کہ کیا اس لڑکی پر غسل واجب نہیں ہوگا؟ کیا نابالغ لڑکی سے نکاح اورہم بستری کی جاسکتی ہے؟تفصیل سے بتائیں۔

    سوال:

    میں نے مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کی کتاب بہشتی زیور میں دیکھا: Â”اگر چہ نابالغ لڑکی کے ساتھ صحبت کے بعد اس پر غسل واجب نہیں ہوتا مگر عادت کے لیے غسل کروانا چاہیے۔“ اس بات پر میرے ایک دوست بہت ناراض ہوئے اور اہل حدیث کی باتوں میں آگئے۔ آپ مہربانی فرماکر حدیث یا فقہ کے ذریعہ میری رہبری فرمائیے کہ کیا اس لڑکی پر غسل واجب نہیں ہوگا؟ کیا نابالغ لڑکی سے نکاح اورہم بستری کی جاسکتی ہے؟تفصیل سے بتائیں۔

    جواب نمبر: 792

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 432/ن=420/ن)

     

    (1) نابالغ بچہ احکام شرع کا مکلف نہیں ہوتا ہے، اس لیے نابالغ لڑکی پر صحبت کی وجہ سے غسل واجب نہ ہوگا: لقولہ علیہ السلام: إن القلم رفع عن ثلث: عن المجنون حتی یفیق وعن الصبي حتی یدرك وعن النائم حتی یستیقظ. (بخاري: 2/795)

     

    (2) جی ہاں نابالغ لڑکی سے نکاح جائز ہے اور اس سے ہم بستری بھی جائز ہے اگر وہ اس کی متحمل ہو:

    عن عائشة رض أن النبيّ صلی اللہ علیہ وسلم تزوّجها وهي بنت ست سنین وبنی بها وهي بنت تسع سنین. (بخاري: 2/771، ط. دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند