• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 6498

    عنوان:

    میرا اور میرے سسرال والوں کا پردہ پر اختلاف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میری بیوی اپنے بہنوئی اور کزن کے سامنے آئے۔ مگر میں ایساہونے نہیں دیتا۔ اسی پردہ کی وجہ سے آج میرے سسرال والوں سے اختلاف بہت زیادہ ہے۔ میرے سسرجو کہ نقشبندی سلسلے سے وابستہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ کزن اور بہنوئی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں ان سے پردہ نہیں ہوتا۔ وہ دیوبندیوں کو کافر کہتے ہیں اور باتوں باتو ں میں مجھے بھی دیوبندی ہونے کی وجہ سے ذلیل کرتے ہیں۔ میری بیوی جس طرح میرے سسرال کی طرف داری کرتی ہے اس طرح میرا ساتھ نہیں دیتی۔

    سوال:

    میرا اور میرے سسرال والوں کا پردہ پر اختلاف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میری بیوی اپنے بہنوئی اور کزن کے سامنے آئے۔ مگر میں ایساہونے نہیں دیتا۔ اسی پردہ کی وجہ سے آج میرے سسرال والوں سے اختلاف بہت زیادہ ہے۔ میرے سسرجو کہ نقشبندی سلسلے سے وابستہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ کزن اور بہنوئی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں ان سے پردہ نہیں ہوتا۔ وہ دیوبندیوں کو کافر کہتے ہیں اور باتوں باتو ں میں مجھے بھی دیوبندی ہونے کی وجہ سے ذلیل کرتے ہیں۔ میری بیوی جس طرح میرے سسرال کی طرف داری کرتی ہے اس طرح میرا ساتھ نہیں دیتی۔

    جواب نمبر: 6498

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 805=739/ ل

     

    شرعاً ہراس شخص سے پردہ ہے جس سے عورت کا نکاح ہمیشہ کے لیے حرام نہ ہو، بیوی کے بہنوئی اگر اپنی بیو ی کو طلاق دیدے یا اس کی وفات ہوجائے اور آپ بھی اپنی بیوی کو طلاق دیدیں تو اس بہنوئی کے لیے آپ کی بیوی سے نکاح کرنا جائز ہوگا، دوسرے معنی کے لحاظ سے یہ کہہ لیجیے کہ دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے، اگر ایک بہن کو طلاق ہوجائے اور اس کی عدت گذرجائے تو اس کی دوسری بہن سے نکاح کرنا جائز ہے۔ یہی حال چچیرے اور خلیرے بھائیوں کا ہے کہ ان سے عورت کے لیے نکاح کرنا جائز ہے ، بنابریں وہ سب غیرمحرم ہیں اور شرعاً ان سے پردہ کرنا واجب ہے، آپ کے سسر کا یہ کہنا کہ کزن او ربہنوئی بھائیوں کی طرح ہیں، ان سے پردہ نہیں ہوتا، یہ ان کی جہالت اور کم عقلی کی دلیل ہے، اسی طرح آپ کی بیوی کا اس مسئلہ میں آپ کے سسرال والوں کی طرف داری کرنا بھی غلط ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند