• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 63976

    عنوان: سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح؟

    سوال: سوال: مجھے اپنی دوسری ماں کی بہن سے پیار ھوگیاہے ،کیا میں اس سے شادی کر سکتا ہوں؟

    جواب نمبر: 63976

    بسم الله الرحمن الرحيم

    اگر دوسری ماں سے مراد سوتیلی ماں ہے تو اس کی بہن سے آپ کا نکاح جائز ہے؛کیوں کہ وہ شریعت کی نظر میں آپ کی خالہ نہیں ہے اگرچہ عرف میں لوگ اسے بھی مجازاً خالہ کہتے ہیں؛کیوں کہ شریعت کی نظر میں آدمی کی خالہ وہ عورت ہوتی ہے جو اس کی حقیقی ماں کی حقیقی، ماں شریک یا باپ شریک بہن ہو ، نیز آدمی پر باپ کی بیوی ہونے کی وجہ سے صرف سوتیلی ماں حرام ہوتی ہے، سوتیلی ماں کی ماں یا بہن وغیرہ حرام نہیں ہوتی؛ اس لیے آپ اپنی دوسری ماں کی بہن سے نکاح کرسکتے ہیں، جائز ہے، مستفاد:قال ابن عابدین عن الخیر الرملي:ولا تحرم أم زوجة الأب ولا بنتھا فأخت زوجة الأب أولى بأن لا تحرم (شامی ۴:۱۰۵، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند