• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 62632

    عنوان: نکاح و ولیمہ

    سوال: معزز علماء کرام کیا فرماتے ہیں مسئلہ ذیل میں کہ کیا نکاح سے دو یا تین ماہ بعد رخصتی کرنا درست ہے ؟ اگر درست ہے تو پھر ولیمہ کب ہوگا نکاح کے بعد یا رخصتی کے بعد؟ اور کیا ولیمہ کے لئے ہمبستری کرنا شرط ہے ؟

    جواب نمبر: 62632

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 155-144/Sn=2/1437-U (۱) جی ہاں! درست ہے۔ (۲) ولیمہ اجتماعِ زوجین کے بعد مسنون ہے، اگر رخصتی کے بعد دونوں کا اجماع ہورہا ہو تو رخصتی کے بعد ہی ولیمہ مسنون ہوگا۔ (۳) اجتماع کافی ہے، ہمبستری شرط نہیں ہے، فتاوی ہندیہ میں ہے: ولیمة العرس سنة وفیہا مثوبة عظیمة وہي إذا بنی الرجل بامرأتہ ینبغي أن یدعو الجیران والأقربا والأصدقاء الخ (ہندیہ: ۵/۳۴۲، باب: ۱۲، ط: زکریا) وانظر: فتاوی محمودیہ، ۱۲/۱۴۱ (ط: ڈابھیل) وفتاوی رحیمیہ (۸/ ۲۳۹، ط: دارالاشاعت) ----------------------------- جواب صحیح ہے، البتہ مزید یہ عرض ہے کہ نکاح کے بعد ولیمہ کرنے سے بھی نفس ولیمہ کی سنت ادا ہوجائے گی، (فتاوی عثمانی مع حاشیہ، ۲: ۳۰۲، ۳۰۳)۔(ن)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند