• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 607955

    عنوان:

    عورت کی نافرمانی پر کیا کریں؟

    سوال:

    سوال : میرا اور میری بیوی کے ابو کا کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اس کے ابو نے مجھ سے ۳ مرتبہ اس کو طلاق دینے بولا پر میں نے نہیں دیا میں نے اپنی بیوی سے گھر چلنے کا بولا اس نے میری بات نہیں سنی اور بولی میری طبیعت خراب ہے میں اسک و بار بار بولتا رہا پھر بھی نہیں آئی اس صورت عورت گنہگار ہوگی یا نہیں ایسی عورت کو نکاح میں رکھنا صحیح ہے جو اپنے شوہر کی عزت کو سب کے سامنے نیلام کر دے نوٹ طبیعت اتنی خراب نہیں تھی کی وہ سفر نہ کر سکے کیونکہ اس کے اگلے دن اس نے سفر کیا؟

    جواب نمبر: 607955

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 286-115T/B-Mulhaqa=05/1443

     آپ صبر سے کام لیں، عورتیں نسبتاً کم عقل ہوتی ہیں اور جذبانی بھی ہوتی ہیں، ان کی بہت سی باتوں کو نظر انداز کرنا ہی پڑتا ہے۔ احادیث میں ہمارے نبی علیہ الصلاة والسلام نے بھی اسی کی تعلیم دی ہے۔ آپ کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ بیوی کو اس طرح کی نافرمانی کا موقع ہی نہ ملے اور سسرالی رشتے داروں کے ساتھ ہمیشہ احترام و پیار کا معاملہ کریں، اس سے بیوی کے ساتھ آپ کے تعلقات ان شاء اللہ خوشگوار رہیں گے۔ بہرحال آپ اپنی بیوی کے ساتھ ایک دوسرے کا لحاظ کرتے ہوئے ازدواجی زندگی گزاریں اور جو کچھ ہوا اسے بالکلیہ نظر انداز کردیں۔

    عن أبي ہریرة قال رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - استوصوا بالنساء خیراً، فإنہن خلقن من ضلع، وإن أعوج شیء فی الضلع أعلاہ، فإن ذہبت تقیمہ کسرتہ وإن ترکتہ لم یزل أعْوَج فاستوصوا بالنساء۔ (متفق علیہ) والمقصود المداراة معہن وقطع الطمع عن استقامتہن والثبات مع اعوجاجہن الخ (مرقاة مع المشکاة، رقم: 3238، باب عشرة النساء)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند