• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 606682

    عنوان:

    حالت حیض میں نکاح کرنا—— غیر شادی شدہ عورت کا بچے کو دودھ پلانا؟

    سوال:

    (۱) کسی عورت کی شادی ہونے والی ہے اور اس شادی کی تاریخ متعین کرنی ہے جن دنوں کی تاریخ متعین کرنی ہیں ان دنوں حیضآرہا ہے ، تو ایسی عورت حیض کو روکنے کے لئے دوا استعمال کرنا ہے ، 2 دو بہنیں ہیں ایک شادی شدہ اور دوسری غیر شادی شدہ شادی شدہ بہن کا دودھ پیتا بچہ ہے شادی شدہ بہن کسی کام سے بچہ غیر شادی شدہ بہن کے پاس چھوڑ کر باہر نکلی ہے اور بچہ کو دودھ پیلانا ہے تو غیر شادی شدہ بہن دودھ پیلا سکتی ہے ۔ 3 طلاق شدہ عورت ہے اور عدت گزار رہی ہے کیونکہ عدت تین حیض ہیں دو مرتبہ حیض آیا اور تیسری مرتبہ حیض آنے میں لمبا وقت ہوگیا کہ ناامید ہوگئی کہ اب حیض شاید حیض نہیں آسکتا تو وہ عورت عدت کیسے گزارے ؟

    جواب نمبر: 606682

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 223-197/M=03/1443

     (۱) اگر کسی عورت کو شادی کی متعینہ تاریخ میں حیض آرہا ہے تو یہ صحت نکاح سے مانع نہیں ہے، ہاں اگر ان ایام میں رخصتی ہوجاتی ہے تو شوہر بیوی کے لیے صحبت سے اجتناب کرنا ضروری ہے پس ایسی صورت میں مانع حیض اَدویہ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں چونکہ طبی نقصان کا اندیشہ ہے۔

    (۲) عامةً غیر شادی شدہ عورت کو دودھ نہیں اترتا؛ البتہ اگر کسی عورت کو دودھ اتر آئے اور وہ کسی بچے کو پلادے بشرطیکہ پلانے والی لڑکی کی عمر 9 سال یا اس سے زائد ہو تو حرمت رضاعت ثابت ہوجائے گی، اس لیے پلانے میں احتیاط کرنا چاہئے، تاکہ آئندہ بچوں کی شادی وغیرہ میں پریشانی نہ ہو۔ ولبن بکر بنت تسع سنین فأکثر محرم وإلا لا۔ درمختار مع شامی زکریا: 4/302، باب الرضاع۔

    (۳) اگر معتدہ بالحیض ایک حیض یا دو حیض آنے کے بعد سن ایاس کو پہنچ جائے کہ اب حیض نہیں آئے گا تو اس کی عدت از سرنو مہینوں کے اعتبار سے ہوگی۔ کما تستأنف العدة بالشہور من حاضت حیضة أو ثنتین ثم أیست تحرزا عن الجمع بین الأصل والبدل۔ شامی: 4/195، باب العدة۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند