• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 606094

    عنوان: اچانک مجھے خواب آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے موجود ہیں اور اسی وقت آسمان سے کچھ فرشتے اترتے ہیں 

    سوال:

    حضرت مفتی صاحب میں آپ سے اپ نے ایک خواب کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں اور اس کی تعبیر بھی چاہتا ہوں،اور وہ خواب میں نے تقریبا 8 یا 10 سال پہلے دیکھا تھا وہ اس طرح ہے کہ میں سو رہا تھا اور اچانک مجھے خواب آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے موجود ہیں اور اسی وقت آسمان سے کچھ فرشتے اترتے ہیں اور ان کے ساتھ حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی ہیں اور حضرت جبرائیل گھوڑے پر سوار ہیں اور اور جتنے فرشتے وہاں پر موجود ہیں انہوں نے ٹاٹ کا لباس پہنا ہوا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف انگلی کا اشارہ کر کے حضرت جبرائیل سے فرمایا کہ اس کے اندر بہت غصہ ہے، بس اتنا خواب مجھے یاد ہے اب تک باقی مُجھے یاد نہیں، اور یہ بھی معلوم کرنا ہے کیا واقعی میں میرے سامنے آپ علیہ الصلاة والسلام یہی تھے؟ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : من رآنی فی المنام فقد رآنی فإن الشیطان لا یتمثل فی صورتی متفق علیہ، مشکاة: ۳۹۴)

    جواب نمبر: 606094

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 31-8/D=01/1443

     اس حدیث کی تشریح کے سلسلے میں مختلف اقوال ہیں:۔

    (۱) ایک قول یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ساتھ خاص ہے، یعنی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھے گا وہ بیداری میں بھی دیکھ لے گا۔

    (۲) ملاعلی قاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ کسی بھی شکل و صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظر آجائیں تو یہ خواب سچا ہوتا ہے، مبشرات میں ہے اور خواب میں نظر آنے والی صورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہوتی ہے، یہ خواب اضغاث احلام میں سے نہیں ہوتا؛ البتہ اس پر احکام جیسے صحابی ہونا، یا اس خواب کے مطابق عمل کا ضروری ہونا وغیرہ احکام متفرع نہیں ہوتے۔

    قال في المرقاة: فالمعنی من رأی في المنام بأيّ صفة کانت، فلیستبشر، ولیعلم أنّہ قد رأی روٴیة الحقّ (8/426)۔

    پس حدیث مذکور کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ خواب میں نظر آنے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ خواب مبارک ہو، یہ مومن کے لئے بشارت ہے، نیز اس میں بے جا غصے سے بچنے کی ہدایت بھی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند