• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 605600

    عنوان:

    سوتیلی والدہ کی لڑکی جو دوسرے شوہر سے ہو‏، كیا اس سے نكاح درست ہے؟

    سوال:

    محترم ، مجھے نیچے والے شمارے پر قرآن مجید اور ہردیس کے مطابق روشنی کی ضرورت ہے دو کنبے ہیں 1- A (مرد ، 50) اور بی (خواتین ، 48) ، کے ایک بیٹے کا نام C (مرد ، 20) ہے 2- H (مرد ، 50) - اور G (خواتین ، 48) کی ایک بیٹی کا نام Y (لڑکی ، 18) ہے A اور G کی موت ہوگئی ، لہذا H اور B نے شادی کا فیصلہ کیا ، شادی کے 2 سال بعد ہی ان کے ایک بچے کا نام Z ہے اب C (22) اور Y (20) بالغ ہیں ، کیا وہ شادی کر سکتے ہیں؟ کیونکہ وہ مختلف ماں سے ہیں۔

    جواب نمبر: 605600

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:984-690/sd=1/1443

     آپ نے سوال میں رشتے کی جو تفصیل لکھی ہے اس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ لڑکے کی سوتیلی والدہ کی لڑکی جو دوسرے شوہر سے ہو، اس سے نکاح کا کیا حکم ہے؟ جواب یہ ہے کہ نکاح درست ہے ؛ اس لیے کہ دونوں کے درمیان محرمیت کا رشتہ نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند