• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 604416

    عنوان:

    كفریہ خیال آجائے توایمان ونكاح پر كوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟

    سوال:

    مجھے وسوس کا مرض ہے اور ہر وقت مجھے خیال آتے رہتے ہیں اور خاص کر کفریہ وسوسے بہت زیادہ آتے ہیں جس کی وجہ سے میں بہت پریشان رہتا ہوں اس سوال کو لکھتے ہوئے بھی مجھے بہت تکلیف ہوئی لیکن یہ سوچ کر شاید میری اس سے رہنمائی ہو جائے اور بہت اکراہت کے ساتھ لکھ رہا ہوں ایک دن میں کام میں مصروف تھا اور مجھے بہت غلط خیال آیا نعوذبااللہ رسول صلی اللّٰہ ھو علیہ وآلہ وسلّم پر فحش خیال آیا اور فحش خیال کی وجہ سے خود بخود ہلکی سی شہوت بھی محسوس ہوئی جس کے بعد میں نے اس خیال کو فوراً ترک کیا اور اللّٰہ پاک سے توبہ واستغفار کیا کیا اس سے میرے ایمان اور نکاح پر کوئی فرق تو نہیں پڑا اور گستاخانہ فحش خیال سے جو یہ جو خود بخود ہلکی سی شہوت محسوس ہوئی کیا یہ کفریہ عمل کے زمرے میں آتی ہے اور اس سے کفر سر زد ہوتا ہے کیا اس سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے میں ایک چھوٹی سی بیٹی کا باپ ہوں پلیز میری رہنمائی فرمائیں میں بہت پریشان ہوں۔ اللّٰہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

    جواب نمبر: 604416

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 743-617/M=10/1442

     اگر مذکورہ معاملہ صرف خیال و وسوسہ کی حد تک کا ہے، زبان یا دل سے کوئی کفریہ بات صادر نہیں ہوئی ہے تو اس سے ایمان و نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، اچھا کیا کہ فوراً اس خیال کو دفع کیا اور توبہ استغفار بھی کرلیا، آئندہ بھی اس طرح کا غلط خیال آیا کرے تو فوراً اس کو دفع کریں اور دھیان کو دوسری چیز کی طرف پھیر دیا کریں نیز دفع وساوس کے لیے یہ دعا پڑھا کریں۔ رَبِّ أعُوْذُبِکَ مِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ ۔ وَأعُوْذُبِکَ رَبِّ أنْ یَّحْضُرُوْنِ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند