• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 604368

    عنوان:

    چچا کا لڑکی سے نکاح کی اجازت لینا؟

    سوال:

    حضرت میرا سوال یہ ہے کہ لڑکے نے اپنے چچا کو وکیل بنا کر بھیجا اور جب وہ لڑکی کے گھر نکاح پڑھنے کے لیے جا رہے تھے تو چچا نے لڑکے سے کہا ہم جارہے ہیں تو لڑکے نے کہا جاو۔تو سوال یہ ہے کہ اس طرح کے کہنے سے اس لڑکے کا نکاح ہو جائے گا؟

    جواب نمبر: 604368

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 935-946/B=01/1443

     اصل ولی تو لڑکی کا باپ ہے۔ باپ کو خود اپنی بالغہ لڑکی سے اجازت لینے کے لئے جانا چاہئے۔ اگر خود نہ جاسکے تو وہ خود اپنی طرف سے کسی آدمی کو اجازت کے لئے بھیجے۔ لیکن اگر لڑکے نے چچا کو اجازت لینے کے لئے بھیجا، اور باپ کو کوئی اعتراض نہیں بلکہ وہ بھی اس پر راضی ہے تو چچا کی اجازت بھی معتبر ہوگی۔ اور صریح اجازت کے بعد چچا بھی نکاح پڑھا سکتا ہے، نکاح صحیح ہوجائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند