• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 604010

    عنوان:

    كیا اپنی ساس كی بہن سے نكاح ہوسكتا ہے؟

    سوال:

    اپنی ساس کی بہن سے نکاح کا حکم؟

    جواب نمبر: 604010

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 699-576/D=08/1442

     بیوی کے نکاح میں رہتے ہوئے بیوی کی خالہ یعنی ساس کی بہن سے نکاح جائز نہیں کیونکہ بیوی اور اس کی خالہ کو بہ یک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے؛ البتہ اگر بیوی کا انتقال ہوجائے یا اسے طلاق دیدی جائے اور اس کی عدت پوری ہوجائے تو اس کی خالہ سے نکاح کرنا شرعاً جائزہے۔

    وحرم الجمع بین المحارم نکاحاً أي عقدا صحیحا وعدّة۔ وحرم الجمع وطأً بملک یمین بین امرأتین فرضت ذکرا لم تحل للأخری أبدا، لحدیث مسلم: لا تنکح المرأة علی عمتہا ․․․․․ ولا علی خالتہا، الحدیث (درمختار مع الشامی: 4/116-117، زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند