• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 603248

    عنوان:

    نوعمری میں جس عورت سے زنا كیا تھا‏، كیا اس كی بیٹی سے شادی كرسكتا ہے؟

    سوال:

    یہ سوال میرے ایک جاننے والے کی طرف سے ہے، اس کا سوال یہ ہے کہ وہ اپنی کم عمری میں تقریباً ۱۴سے ۱۵سال کی عمر میں ایک شادی شدہ عورت کے ساتھ غلط کام کر بیٹھا اور وہ عورت اپنے شوہر اور بچے ہونے کے باوجود بھی یہ کام کرتی تھی، شاید وہ اس غلط کام کی عادی ہوچکی تھی جس کا شکار میرا نابالغ دوست بھی ہوگیا جس کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی اس عورت سے غلط تعلقات رکھنے پر مجبور ہوگیا اور اتنی عمر بھی نہیں تھی کہ اسے ان سب غلط کاموں کا پورے پتا ہوسکے ، پتا چلنے پر میرے دوست نے اس عورت سے یہ سب غلط کام چھوڑ دیا اور خدا کے آگے توبہ تائب ہوگیا اور پھر کبھی اس عورت کے ساتھ غلط تعلق نہیں رکھا اور نہ ہی وہ کبھی آگے اس بارے میں ایسی سوچ رکھتا ہے مگر ان سب کے درمیان میرے دوست کو اس عورت کی بیٹی سے محبت ہوجاتی ہے جو کہ کئی سالوں سے ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے، وہ لڑکی بھی اس سے محبت کرتی ہے، اور شادی کرنا چاہتی ہے، دونوں جائز خوشگوار ازدواجی زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو کیا وہ یہ شادی کرسکتا ہے؟ اورکیاوہ عورت میرے دوست کی ساس بن سکتی ہیں اور کیا اس عورت کی بیٹی میرے دوست کی جاء بیوی ہوسکتی ہے ؟

    آپ جناب سے درخواست ہے کہ اس معاملے پر ذرا نظر ثانی فرمائیں کہ لڑکا اور لڑکی دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں، یہ دونوں بھی غلط کام کرسکتے ہیں ، مگر دل میں خوف خدا ہے اور میرے دوست نے زنا نام سے طلاق لے لی ہے، اب وہ اس بارے میں سوچتا بھی نہیں، براہ کرم، کوئی حل بتائیں کہ کیا ہوسکتاہے ان دونوں کے لیے؟۔

    جواب نمبر: 603248

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 559-435/D=07/1442

     زنا کرنا سنگین گناہ ہے اور ناجائز معاشقہ کرنا یہ بھی سخت ترین گناہ ہے جس طرح عورت سے زنا کرنا حرام تھا اسی طرح اس کی بیٹی سے معاشقہ اور ناجائز راہ و رسم رکھنا بھی حرام ہے لہٰذا جس طرح عورت کے ناجائز تعلق سے توبہ کیا اسی طرح اس کی بیٹی کے معاشقہ اور ناجائز تعلق کو ترک کرکے اس سے تائب ہوں۔

    جہاں تک اس بیٹی سے نکاح کرنے کی بات ہے تو شریعت میں اس کی قطعاً اجازت نہیں ہے ماں سے ناجائز تعلق کی بنا پر اس کی بیٹی سے ہمیشہ ہمیش کے لئے نکاح کرنا حرام ہوگیا۔ اس خیال کو دل سے نکاح دے اور سچے دل سے توبہ کرکے کوئی دوسرا رشتہ نکاح کے لئے منتخب کرے۔ قال فی الدر: وحرم أیضا بالصہریة أصل مزنیتہ أراد بالزنا الوطیٴ الحرام ․․․․․ وفروعہن (الدر مع الرد: 4/108)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند