• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 603113

    عنوان:

    احتیاطا تجدید نکاح میں کیا شوہر بیوی کا وکیل بن سکتا ہے ؟

    سوال:

    امید ہے کہ آپ لوگ بخیر وعافیت ہوں گے ۔میرا سوال ہے کہ احتیاطاً تجدید نکاح کیلئے میں اپنی بیوی کے نکاح کیلئے وکیل یا ولی بن سکتا ہوں کہ میں خود ہی اپنے دوستوں کی محفل میں انکی نکاح اپنے ساتھ کرادوں؟اور کیا اس طرح کے نکاح کیلئے بیوی سے پوچھنا ضروری ہے یا نہیں؟ اور پاکستانی روپیہ میں کم از کم مہر کتنا ہونا چاہئے ؟

    جزاک اللہ فی الدارین

    جواب نمبر: 603113

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:600-417/sn=7/1442

     آپ اپنی بیوی کی طرف سے وکیل بالنکاح بن سکتے ہیں، بعد توکیل اگر آپ شرعی گواہوں کی موجودگی میں اپنی طرف سے ایجاب اور بیوی کی طرف سے قبول کرلیں تو نکاح ہوجائے گا ، بیوی سے اجازت لینا بہر حال ضروری ہے ۔

    (2) کم از کم مہر دس درہم یعنی تیس گرام چھ سو اٹھارہ ملی گرام چاندی ہے ، اپنے یہاں بازار سے نرخ معلوم کرکے اتنی چاندی کی مالیت متعین کرلیں۔(دیکھیں: رد المحتار مع الدر المختار، 4/70، وبعدہ،کتاب النکاح، مطبوعة: مکتبة زکریا، دیوبند، الہند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند