• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 600436

    عنوان: عاقلہ، بالغہ لڑکی اپنی مرضی سے اپنا نکاح كرنا

    سوال:

    جب ایک لڑکی کو ہمارے پیارے اسلام کونے اس کی اجازت دی کی وہ اپنے سے اپنے سوہر کا انتخاب کر سکتی اس کے بعد جب اپنے والدین کو اس کے بارے میں بتاتی ہے تو اس کے برعکس وہ کہی اور سادی کرتے ہیں اور لڑکی پر زبردستی ایک دوسرا لڑکا اپنی مرزی کا لڑکی کے خلاف نافذ کرتے صرف اس لیے کی وہ کیوں بولی اور زبردستی نکاح کرتے لڑکی کی مرضی کے خلاف اور زبردستی دستخط نکاح نامہ، پر جبکہ دل سے قبول نہیں ۔ اس کا اسلام کی روشنی میں کیا حکم ہے ۔ جزاکم اللہ

    جواب نمبر: 600436

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 58-42/M=02/1442

     عاقلہ، بالغہ لڑکی اپنی مرضی سے اپنا نکاح کرسکتی ہے باپ دادا، زبردستی اپنی مرضی کے مطابق شادی کرنے پر اس کو مجبور نہیں کرسکتے، ہاں اگر لڑکی اپنی مرضی سے غیر کفو میں شادی کرلیتی ہے تو ولی (باپ یا دادا) کو اعتراض کا حق حاصل ہوتا ہے یعنی ولی اگر راضی نہیں ہے تو وہ اِس نکاح کو بذریعہ شرعی پنچایت ختم کروا سکتا ہے ، اور لڑکی چاہے عاقلہ بالغہ ہو اس کے لئے اولیٰ یہی ہے کہ ماں باپ کی اجازت و رضا سے شادی کرے اور اَز خود نکاح پر اقدام کرنے کے بجائے یہ معاملہ اولیاء کے حوالے کردے، والدین کو ناراض کرکے شادی کرلینا بے برکتی کا باعث ہو سکتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند