• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 59006

    عنوان: كاغذی كارروائی كے بغیر نكاح كرنا؟

    سوال: میں سنی مسلم ہوں، میری بڑی بہن کا ایک شادی شدہ مسلمان مرد کے ساتھ جس کے تین بچے ہیں، معاشقہ چل رہا ہے، دونوں ہوٹلوں میں جاتے ہیں جب کہ میرے گھروالے دونوں کو شادی کرنے پر مجبور کررہے ہیں مگر دونوں نے پانچ سال تک شادی نہیں کی ، ایک دن بہن نے والدہ سے کہا کہ اس نے اس شخص کے ساتھ” مرکز کا نکاح“ کرلیا ہے ۔ اب میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ” مرکز کا نکاح“ کیا ہے؟میں نے اس طرح کا لفظ پہلے کبھی نہیں سنا، جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ یہ نکاح مدرسہ میں دوگواہوں کے سامنے ہوتاہے ، لیکن میرے گھروالے، نہ میں اور نہ میرے بڑے بھائی وہاں موجود تھے۔ براہ کرم، وضاحت فرمائیں کہ” مرکز کا نکاح“ کیا ہے؟اور کیا اس طرح کا نکاح درست ہو جاتاہے یا نہیں؟ دونوں یعنی دولہا اور دلہن کے درمیان کوئی کاغذی معاہدہ نہیں ہوا ، نہ کوئی قاضی آکر مسلم پرسنل لاء کے مطابق دستخط لیا ، قضاة میں ان کا نکاح رجسٹرڈ نہیں ہے، بس صرف مدرسہ میں دولوگوں کی موجودگی میں زبانی طورپر انہوں نے شادی کرلی ، جیساکہ بہن کہتی ہے۔

    جواب نمبر: 59006

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 364-364/Sd=7/1436-U

    ”مرکز کے نکاح“ کی تفصیلات سے ہم بھی واقف نہیں ہیں۔ اگر آپ کی بڑی بہن نے مذکورہ سنی مسلم لڑکے کے ساتھ دو گواہ کی موجودگی میں ایجاب وقبول کیا تھا، تو شرعاً اُن کا نکاح منعقد ہوگیا، شرعاً نکاح کے منعقد ہونے کے لیے دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کا ہونا کافی ہے، کاغذی معاہدہ یا قضاة کے رجسٹر میں نکاح کا اندراج ضروری نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند