• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 58878

    عنوان: بالغہ لڑکی اپنے ولی کے مقابلہ میں اپنے نکاح کی زیادہ حق دار ہوتی ہے

    سوال: میرانام محمد ابان ہے ، میں تین سال پہلے ایمان میں داخل ہوا ہوں، پہلے میرا نام لکھ راج تھا۔ میرا سوال یہ ہے کہ ایک لڑکی میرے ساتھ کالج میں پچھلے پانچ سال سے میرے ساتھ پڑھائی کررہی ہے، جس کا نام شگفتہ فاطمہ ہے ، ہم دونوں ایک دوسرے سے پیا ر کرتے ہیں، ان کے گھر والوں کو بھی ہمارے بارے میں پتا تھا، ہم نے اپنی شادی کے لیے ان سے اجازت بھی مانگی وہ راضی بھی ہوگئے تھے مگر بعدمیں مکر گئے یہ بول کر کہ یہ ابھی نومسلم ہے ، اس کی پوری فیملی ہندو ہے ، بعد میں ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ ہم نکاح کرلیتے ہیں اس کے لیے ہم نے استخارہ بھی نکلوایا ، اللہ کی مرضی کے بعد ہم دونوں نے دو گواہ اور ایک وکیل کی موجودگی میں اور 25000 روپئے متعین کرکے ایک دوسرے کو قبول کیا اور ہمارا نکاح ہوگیا، نکاح کی تاریخ 1/3/2014 ہے ۔ ہماری کورٹ میری ج بھی ہوچکی ہے ، اب لڑکی کے خاندان والے ہمارے اس نکاح کو غلط کہہ رہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ بغیر ولی کے نکاح صحیح نہیں ہے ، وہ لوگ ہمارے نکاح کو ماننے سے انکار کررہے ہیں، اور لڑکی پر جبراً طلاق کے لئے زور ڈال رہے ہیں۔ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 58878

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 903-199/B=9/1436-U نابالغہ لڑکی کے نکاح کے لیے ولی کا ہونا ضروری ے، بغیر ولی کے نابالغہ لڑکی کا نکاح صحیح نہیں ہوتا؛ لیکن لڑکی جب بالغ ہوجائے تو اس کو اپنے نکاح کے لیے ولی کی ضرورت نہیں، وہ اپنے نکاح میں خود مختار ہوتی ہے، حدیث میں آیا ہے الأیم أحق بنفسہا من ولیہا یعنی بالغہ لڑکی اپنے ولی کے مقابلہ میں اپنے نکاح کی زیادہ حق دار ہوتی ہے۔ لڑکی والے شرعی مسئلہ سے ناواقف ہیں، انھیں پیار ومحبت کے ساتھ سمجھائیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند