• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 58584

    عنوان: میرے بہنوئی نکاح میں وکیل تھے، میری بیوی سے نہ تو انہوں نے اجازت لی اور نہ ہی انہوں نے دستخط کرایا

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ گیارہ فروری کو میری شادی ہوئی ، میرے بہنوئی نکاح میں وکیل تھے، میری بیوی سے نہ تو انہوں نے اجازت لی اور نہ ہی انہوں نے دستخط کرایا، پہلی رات کو میری بیوی نے یہ جانکاری دی ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا نکاح ہوا ؟

    جواب نمبر: 58584

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 578-463/D=6/1436-U

    دستخط کرنا تو صحت نکاح کے لیے ضروری نہیں ہے، البتہ جب لڑکی نے اجازت نہیں دی تو بہنوئی وکیل کیسے بنے؟ وکیل وہی ہوتا ہے جسے لڑکی نکاح پڑھانے کی اجازت دے یعنی وکیل بنائے۔ اگر آپ نکاح دو مسلمان گواہوں کی کے سامنے شرعی طور پر ہوا تھا، پھر لڑکی کو جب نکاح کی اطلاع ہوئی تو اس نے انکار نہیں کیا، بلکہ رخصت ہوکر آپ کے گھر آگئی اور خلوت میں بھی اس نے نکاح کی منظوری سے انکار نہیں کیا تو اس سے بھی نکاح صحیح ہوگیا، یہ اجازت بعد العقد کی صورت ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند