• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 57036

    عنوان: فیملی پلاننگ

    سوال: میری شادی کو ڈھائی سال ہورہے ہیں، اوراس میں مجھے دو بچے ہوگئے ہیں ، میں نے اللہ کے خوف سے فیملی پلاننگ کے لیے کوئی بھی احتیاطی قدم نہیں اٹھایا ، لیکن اب مجھے ڈر ہے کہ کہیں اگلے سال پھر مجھے حمل نہ ہوجائے ، مجھے تیسرا بچہ چاہئے ، لیکن تھوڑا گیپ کرکے تاکہ میں اپنے دونوں بچوں کو تھوڑا سنبھال لوں اور اپنی صحت پہ بھی دھیان دو ں ، کیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس سے اگلے بچے تھوڑی تاخیر سے ہو اور کوئی گناہ بھی نہ ہو؟ بڑی مہربانی ہوگی میری پریشانی کا راستہ نکال دے اور مجھے گناہ سے بھی بچا لے؟

    جواب نمبر: 57036

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 97-97/Sd=3/1436-U نکاح کا اصل مقصد توالد وتناسل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تناکحوا تناسلوا“ (احیاء علوم الدین) آج کل فیملی پلاننگ کے نام سے جو رجحان لوگوں میں پایا جارہا ہے، وہ غیر اسلامی ہے، اس کی بعض شکلیں تو بالکل ناجائز ہیں، بعض مکروہ ہیں اور بعض صورتوں کی اگرچہ گنجائش ہے؛ لیکن ان میں بھی مقصد نکاح کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے؛ البتہ بعض ناگزیر حالتوں میں منعِ حمل کی عارضی تدبیر کرنے کی بلاکراہت گنجائش ہے، مثلاً: عورت اتنی کمزور ہو کہ دوبارہ حمل کا تحمل نہیں کرسکتی یا بچہ ایام رضاعت میں ہو اور حمل ٹھہرنے کی وجہ سے اُس بچے کے لیے ماں کا دودھ مضر ہورہا ہو یا بچے کی پیدائش ماں کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہو، بہرحال بچے یا ماں کی مصلحت سے ان صورتوں میں منع حمل کی عارضی تدبیر اختیار کرنے کی گنجائش ہے؛ لیکن محض خوشی عیشی اور گھر کو سنبھالنے کے مقصد سے عارضی طور پر بھی حمل نہ ٹھہرنے کی کوئی تدبیر کرنا اچھا نہیں ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر پہلے دونوں بچوں کی تعلیم وتربیت اور آپ کی صحت کی حفاظت کا مسئلہ ہے تو اس کی وجہ سے آپ کے لیے منع حمل کی عارضی تدبیر اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ نوٹ: فیملی پلاننگ سے متعلق دارالعلوم دیوبند کا مفصل ومدلل فتوی ”چند اہم عصری مسائل“ نامی کتاب میں چھپ چکا ہے، یہ کتاب دارالافتاء کی ویب سائٹ پر موجود ہے، آپ اس کا ملاحظہ فرمالیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند