• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 56411

    عنوان: میرے کچھ احباب پوچھتے ہیں کہ عام طورپر لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں کئی یعنی چار شادی کرنا جائز ہے؟کیا اس کے لیے کچھ قیودو شرائط ہیں ؟ یا یہ بہت زیادہ آسان ہے؟ براہ کرم، تفصیل سے بتائیں کہ دوسری شادی کے لیے کیا شرائط ہیں ؟ جزاک اللہ

    سوال: میرے کچھ احباب پوچھتے ہیں کہ عام طورپر لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں کئی یعنی چار شادی کرنا جائز ہے؟کیا اس کے لیے کچھ قیودو شرائط ہیں ؟ یا یہ بہت زیادہ آسان ہے؟ براہ کرم، تفصیل سے بتائیں کہ دوسری شادی کے لیے کیا شرائط ہیں ؟ جزاک اللہ

    جواب نمبر: 56411

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 40-27/N=1/1436-U جس مرد کو یہ اطمینان وبھروسہ ہو کہ وہ ایک سے زائد بیویاں رکھ کر ان کے درمیان شرعی طور پر عدل وانصاف قائم رکھ سکے گا تو وہ چار تک شادیاں کرسکتا ہے، جائز ہے۔ اور جس کو یہ اطمینان نہ ہو تو اسے صرف ایک نکاح پر اکتفا کرنا چاہیے، لیکن اگر وہ بھی چار تک شادیاں کرے گا تو نکاح ہوجائے گا مگر ان کے درمیان ناانصافی کی صورت میں وہ گنہ گار ہوگا اورقیامت کے دن اس حالت میں حاضر ہوگا کہ اس کا ایک دھڑا گرا ہوا ہوگا جس سے لوگ سمجھ لیں گے کہ یہ دنیا میں ایک سے زائد بیویاں رکھ کر ان کے درمیان ناانصافی کرتا تھا، قال اللہ تعالیٰ: فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَی وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً الآیة (النساء: ۳) وعن أبي ہریرةَ رضی اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: إذا کانت عند الرجل امرأتان فلم یعدل بینہما جاء یوم القیامة وشقہ ساقط رواہ الترمذي وأبوداوٴد والنسائی وابن ماجة والدارمي (مشکاة شریف ص۲۷۹)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند