• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 51683

    عنوان: میں نے اپنی شریک حیات کو نکاح کے وقت ہی مہر معجل ادا کردیا تھا (لڑکی کے والد کو )لیکن نکاح کے وقت اسے یہ نہیں بتایا گیا ،

    سوال: میں نے اپنی شریک حیات کو نکاح کے وقت ہی مہر معجل ادا کردیا تھا (لڑکی کے والد کو )لیکن نکاح کے وقت اسے یہ نہیں بتایا گیا ، نہ ہی وہ رقم (چیک) اسے دیا گیا، جب شادی کی پہلی رات اس سے میں نے سوال کیا تو اس نے بتایا کہ اسے ابھی میری چچی نے بتایا کہ اس کامہر ادا ہوگیاہے، کیا یہ جائز ہے کیوں کہ عام طورپر مہرموٴجل چلن ہے، عربی لفظ ہونے کی وجہ سے لڑکی کو سمجھ میں نہیں آیا تھا، کیا اسے بتانا ضروری ہے یا بغیر بتائے بھی نکاح ہوسکتاہے بشرط کہ اسے نکاح کی رقم معلوم ہو؟

    جواب نمبر: 51683

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 558-453/D=5/1435-U مہر کی رقم دیتے وقت یہ بتانا بہتر ہے کہ یہ مہر کی رقم ہے اگر لڑکی کو دی گئی تو اسے بتادیا جائے اوردوسرے کے حوالہ کی گئی تو اسے خواہ نکاح سے پہلے دی گئی ہو یا نکاح کے بعد۔ صورت مسئولہ میں لڑکی کے والد کو نکاح کے وقت مہر معجل کی رقم آپ نے ادا کردی تھی اور انہیں بتلادیا تھا تو مہر معجل ادا ہوگیا۔ نکاح بغیر بتائے بھی درست ہوجاتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند