• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 51445

    عنوان: جب میں سترہ سال کی تھی مجھے ایک لڑکے سے محبت ہوگئی تھی اور ہم دونوں دوست بن گئے اور شادی کرنا چاہتے تھے، کئی سال تک ہمارا معاشقہ چلتا رہا، ایک دن ہم دو لڑکوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ان دونوں کے سامنے ہم نے ایجاب وقبول کیا، پہلے میرے دوست نے نکاح قبول کیا اور پھر میں نے بھی قبول کیا

    سوال: جب میں سترہ سال کی تھی مجھے ایک لڑکے سے محبت ہوگئی تھی اور ہم دونوں دوست بن گئے اور شادی کرنا چاہتے تھے، کئی سال تک ہمارا معاشقہ چلتا رہا، ایک دن ہم دو لڑکوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ان دونوں کے سامنے ہم نے ایجاب وقبول کیا، پہلے میرے دوست نے نکاح قبول کیا اور پھر میں نے بھی قبول کیا ، ہم نے ہمبستری بھی کی، کیوں میں نے اس کو شوہر مان لیاتھا، کچھ برے حالات کی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے الگ ہوگئے اور اب کسی دوسری لڑکی کے ساتھ اس کی شادی ہوگئی ہے، میں تذبذب میں ہوں کہ میں اس کی بیوی ہوں یا نہیں؟اب میرے گھروالے میری شادی کسی دوسرے لڑکے سے کرانا چاہتے ہیں تو کیا مجھے شادی کرنی چاہئے؟براہ کرم، شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں تاکہ میں گناہ سے بچ سکوں۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ اس قت جب ہم ایک دوسرے کو قبول کررہے تھے تو صرف مرد موجود تھے ، نہ تو مہر متعین کیا گیا تھا اور نہ ہی کوئی اور وعدہ کیاتھا۔

    جواب نمبر: 51445

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 452-370/D=5/1435-U صورت مسئولہ میں چونکہ ایجاب وقبول دو گواہوں کی موجودگی میں پالیا گیا اس لیے آپ کا نکاح شرعاً اس لڑکے سے ہوچکا ہے؛ لہٰذا جب تک شوہر طلاق نہ دے، یا شرعی طور پر تفریق نہ ہوجائے، آپ کا نکاح کسی دوسرے شخص سے نہیں ہوسکتا: ففي الہندیة: لا یجوز للرجل أن یتزوج زوجة غیرہ (۱/۲۸۰ دارالکتاب) لہٰذا اگر ممکن ہو تو اولاً شوہر سے طلاق حاصل کریں یا پھر اپنے والدین کو اس کی اطلاع دیدیں تاکہ تفریق سے پہلے وہ آپ کا دوسرا نکاح نہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند