• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 5080

    عنوان:

    آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، جواب عنایت فرمائیے۔ میری بیوی کو مرے ہوئے ۲/سال ہوچکا ہے، اور مجھ کو کوئی اولاد نہیں ہوئی ہے۔ میں دوسری شادی کرنا چاہتاہوں، میری بڑی سالی کہتی ہے کہ میں اس کی لڑکی سے شادی کرلوں، مجھ کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میں کیا کروں، جب کی سالی کی لڑکی رشتہ میں بھانجی کہلاتی ہے۔ یہ کیسے ہے، کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

    سوال:

    آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، جواب عنایت فرمائیے۔ میری بیوی کو مرے ہوئے ۲/سال ہوچکا ہے، اور مجھ کو کوئی اولاد نہیں ہوئی ہے۔ میں دوسری شادی کرنا چاہتاہوں، میری بڑی سالی کہتی ہے کہ میں اس کی لڑکی سے شادی کرلوں، مجھ کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میں کیا کروں، جب کی سالی کی لڑکی رشتہ میں بھانجی کہلاتی ہے۔ یہ کیسے ہے، کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 5080

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1166=870/ ھ

     

    وہ آپ کی نہیں بلکہ مرحومہ بیوی کی بھانجی ہے، بیوی کے نکاح میں رہتے ہوئے تو اس سے نکاح حرام تھا، مگر جب کہ آپ کی بیوی کی وفات ہوگئی، تو بڑی سالی کی بیٹی سے نکاح حلال ہوگیا، اب نکاح کرلینے میں کچھ حرج نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند