• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 47048

    عنوان: زید کو آج سے پانچ سال پہلے ایک لڑکی حالہ سے محبت ہو گئی اور حالہ بھی زید کو چاہنے لگی

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام و علمائے عظام اس سلسلے میں کہ زید کو آج سے پانچ سال پہلے ایک لڑکی حالہ سے محبت ہو گئی اور حالہ بھی زید کو چاہنے لگی، اس دوران ان کے بیچ کسی قسم کے غلط مراسم نہیں رہے۔ اسی اثناء میں زید کی امی نے 2 سال پہلے زید کی منگنی حاجرہ سے کرائی اگر چہ زید نے بہت منع کیا ک مجھے حالہ پسند ہے آپ اسی کے والدین سے بات کریں لیکن زید کی والدہ کا کہنا تھا ک حالہ کا خاندان اتنا اچھا نہیں جبکہ حاجرہ زیادہ بڑے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ زید نے مجبوری میں ہاں تو کر دی لیکن دل حالہ میں ہی اٹھکا رہا، اب مزید 3 سال گزر گئے زید بہانے بنا کر شادی لیٹ کرا رہا ہے لیکن اس کی ماں ناراض ہو رہی ہے۔ زید کہتا ہے کہ حالہ کو چھوڑتا ہوں تو وہ ناراض ہوتی ہے اور اس کا دل بھی بہت دکھے گا اور شائد کچھ غلط نہ کر دے۔ اور یہ کہ یہ حالہ ک ساتھ زیادتی ہے کہ 5 سال اس امید پہ تھی کہ میں اس سے شادی کروں گا۔ اور اگر حاجرہ کو انکار کرتا ہے تو اس کی زندگی برباد ہو گی اور ماں بھی ناراض ہوگی۔ برائے مہربانی آپ اصلاح فرمائیں کہ زید کیا کرے اور شریعت کے رو سے کس طرف جانا مناسب اور جائز ہے۔

    جواب نمبر: 47048

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1254-1199/N=10/1434 عشق ومحبت کی شادی عام طور پر کامیاب نہیں ہوتی ہے اس لیے زید کے لیے اگر ہالہ سے پیچھا چھڑانا ممکن ہے تو اس سے پیچھا چھڑا کے والدہ کی مرضی کے مطابق ہاجرہ سے شادی کرلے۔ اوراگر اس کے لیے ہالہ کو چھوڑنا ممکن نہ ہو یعنی اس سے شادی نہ کرنے کی صورت میں کوئی بڑا حادثہ: خود کشی وغیرہ کا پیش آسکتا ہے، تو زید کی والدہ کو چاہیے کہ زید کا رشتہ ہالہ ہی سے کردیں، ایسی صورت میں یہی زیادہ مناسب ہے، کیونکہ ایسی حالت میں لڑکے کو اس کی مرضی کے خلاف مجبور کرنے پر بعض مرتبہ سختی افسوس کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند