• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 44070

    عنوان: عارضی طورپر غير مسلمه سے نكاح

    سوال: عارضی طورپر غیر مسلمہ سے نکاح کرنے کے سلسلے میں سوال ہے۔ میں یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ اگر کسی طرح ایسی عورت / لڑکی سے شادی کرلوں جو اللہ پر اور دنیا و آخرت پر یقین رکھتی ہو تو کیا میں اس سے شادی کرسکتاہوں اس شرط کے ساتھ کہ ہمیں اولاد نہیں چاہئے اس لیے کہ میری مسلم بیوی بیرون ملک رہتی ہے اور میں یہ صرف جنسی تسکین کے لیے کررہاہوں۔ اگر آپ کا جواب ’نہیں ‘ہو تو کیا میں جنسی خواہش سے چھٹکارا پانے کے لیے زنا کے بجائے مشت زنی کرسکتاہوں؟( میں جانتاہوں کہ یہ بہت بڑا گنا ہ ہے)کیوں کہ زنا مشت زنی سے بڑا گناہ ہے۔ مشت زنی میں صرف میں اور میری تنہائی ہوتی ہے جب کہ زنا میں ایک اور پارٹنر ہوتاہے۔ میں نے ترمذی میں پڑھا ہے کہ اللہ تعالی ایسے گناہ کو معاف کردیتاہے جس کا کوئی گواہ نہ ہو مگر وہ ایسے گناہ کو معاف نہیں کرے گا جس میں دوسراشخص بھی ملوث ہو ۔مشت زنی سے مجھ پر اثر پڑے گا جب کہ زنا میں دوسرے پارٹنر پر اثر پڑے گا اور پوری سوسائٹی پر ۔ دونوں صورت حال پر آپ کی کیا رائے ہے؟غیر مسلم کے ساتھ عارضی نکاح یا مشت زنی؟

    جواب نمبر: 44070

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 481-201/L=4/1434 اگر آپ کی بیوی دوسرے ملک میں موجود تو آپ کوشش یہی کریں کہ وہ بھی آپ کے ساتھ رہے یا کم ازکم آپ کچھ مہینوں کے بعد اس کے پاس جاتے رہیں، مشت زنی حرام ہے، قرآن وحدیث میں اس پر سخت وعید آئی ہے، اگر آپ پر شہوت کا غلبہ ہو تو روزہ کی کثرت کریں، بدنظری اور فحش تصاویر وغیرہ کے دیکھنے سے بالکلیہ اجتناب کریں، ناجائز اورحرام امور سے توجہ ہٹاکر ذکر وتلاوت وغیرہ میں مشغول رہیں اور کبھی مشت زنی کا داعیہ ہو تو اللہ رب العزت کی وعیدوں کا استحضار کریں، حرام امر سے بچنا لازم وضروری ہے۔ نوٹ: کتابیہ عورت سے نکاح کرنے کا جواب پہلے دیا جاچکا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند