• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 36766

    عنوان: بالغہ لڑکی کا نکاح اس کی اجازت ورضامندی کے بغیر نہیں ہوتا

    سوال: آج سے چار سال قبل میری منگنی اپنے چچا زاد سے ہوئی تھی۔ اس وقت مجھ سے اپنے چچا نے پوچھا تھا.کہ آپ اس رشتے پر راضی ہیں تو میں نے کہا کہ میرے والدین کی مرضی ہے۔ کچھ عرصہ بعد (دو سال بعد )مجھے پتا چلا کہ میرا نکاح ہوا ہے۔ ابو نے مہر اور نکاح نامہ لکھا ہے ۔ مولانا صاحب، میں تو رشتہ کے لییوالدین کی مرضی کہی تھی ۔ مطلب اگر یہاں پر کر رہے ہیں یا کو ئی دوسری جگہ؟مولانا صاحب جب ۲ سال بعد مجھے پتا چلا کہ مری نکاح ہوا ہے تو میں اسی وقت اپنے ابو کے سات لڑ پڑی کہ آپ نے میرا نکاح مجھ سے پوچھے بغیر کیوں کیا؟میں نے تو یہ نکاح نہ اسی وقت قبول کیا تھا، نہ اب تسلیم کر رہی ہوں، کیوں کہ نہ میں نے دستخط کیا ہے ،نہ مہر کے بارے میں مجھے کچھ پتا ہے اورنہ نکاح نامے کا۔ کیا اسطرح نکاح ہوتا ہے..؟ آپ مہربانی کر کے ہمارے اس مسئلہ پر غور فرمائیں۔

    جواب نمبر: 36766

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 433=433-3/1433 کتب فقہ وفتاویٰ میں یہ مسئلہ مصرح ہے کہ بالغہ لڑکی کا نکاح اس کی اجازت ورضامندی کے بغیر نہیں ہوتا کیونکہ بالغہ پر کو ولایت اجبار حاصل نہیں، لیکن یہ مسئلہ بھی ہے کہ اجازت لینے کے وقت باکرہ کی خاموشی اور رونا رضامندی کی علامت ہے، اب سوال مذکورہ میں پوری بات وضاحت سے لکھی جائے کہ آپ کے والد نے کس طرح نکاک کیا تھا؟ اور انھوں نے آپ کی رضامندی کیوں معلوم نہیں کی؟ اس بارے میں خود والد صاحب کا بیان ان ہی کے قلم و دستخط کے ساتھ منسلک کرکے استفتاء کیجیے یا مقامی کسی مستند مفتی صاحب سے مسئلہ کی تحقیق فرمالیجیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند