• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 36754

    عنوان: کیا واقعی وہ عربی شیخ فوت ہوگیا یا ابھی زندہ ہی ہے ؟ صرف جان چھڑانے کے لئے ایسا حیلہ رچا گیا؟یہ خط جھوٹا بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ کوئی سرکاری قابل وثوق دستاویزات شامل نہیں ہیں؟

    سوال: آپ سے گزارش یہ ہے کہ مندرجہ ذیل مسئلے میں قرآن وسنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔ جیساکہ معروف ہے کہ حیدرآباد میں عرب کے شیخ آتے ہیں اور غریب لڑکیوں کے ساتھ شادی کرکے چلے جاتے ہیں ، اور وقفہ وقفہ سے آیا جایا کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک خاتون کی شادی ایک شیخ سے ہوگئی ، اور وہ کچھ سالوں تک خاتون کے پاس آتے جاتے رہے جیساکہ خاتون اور اس کے رشتہ داروں کا اعتراف ہے ، اس کے بعد اچانک اس شیخ کے ایک دوست کی طرف سے اردو زبان میں ایک خط موصول ہوا جس میں یہ خبر دی گئی کہ اس شیخ کا انتقال ہوگیا۔ اس واقعہ کے تقریبا دس سال بعد اس خاتون کی ایک حیدرآبادی آدمی سے شادی ہوگئی ، اب اس شخص کو کئی شکوک ذہن پر وارد ہیں۔ کیا واقعی وہ عربی شیخ فوت ہوگیا یا ابھی زندہ ہی ہے ؟ صرف جان چھڑانے کے لئے ایسا حیلہ رچا گیا؟یہ خط جھوٹا بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ کوئی سرکاری قابل وثوق دستاویزات شامل نہیں ہیں؟ مزید یہ کہ اس خاتون کے پاس پہلی شادی کا کوئی کاغذی ثبوت بھی موجود نہیں ہے ؟ پھر عربوں کے ساتھ جو شادی ہوتی ہے کیا وہ شرعا معتبر ہے؟۔۔۔۔

    جواب نمبر: 36754

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 355=59-3/1433 مذکورہ شخص کو نکاح کرنے سے پہلے ہی اپنے سارے شکوک وشبہات ختم کرکے اطمینان کرلینا چاہیے تھا؛ لیکن اگر اس نے بیوی کے اس کہنے پر کہ اس کے شوہر فوت ہوچکے ہیں، نکاح کرلیا تو نکاح صحیح ہوگیا، اب شک وشبہ کی ضرورت نہیں، اگر بااعتماد آدمی کے ذریعے عورت کو یہ اطلاع ملی کہ اس کے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے تو اب اس کے لیے اجازت ہے کہ وہ عدت کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرلے، اب جب تک اس خبر کا جھوٹا ہونا یقینی نہ ہوجائے کسی طرح شک وشبہ کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ اگر یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ پہلا شوہر زندہ ہے، تو اس وقت دوبارہ مسئلہ معلوم کرلیا جائے، وفي جامع الفصولین: أخبرہا واحد بموت زوجھا أو بردتہ بتطلیقہا حل لہا التزوج رد المحتار: ۵/۲۱۴،زکریا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند