• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 35404

    عنوان: دوران عدت اپنے بچوں كا نكاح

    سوال: ۱۸ /اکتوبر ۲۰۱۱/میں کو میرے ماموں کا انتقال ہوا جب کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی جو ۲۳/اکتوبر کو ہونے جارہی ہے، کی تیاری کررہے تھے۔ ۱۹/اکتوبر کو ان کی تدفین ہوئی۔ میں جاننا چاہوں گا کہ نکاح کے سلسلے میں شریعت کیا کہتی ہے؟کیا پلان کے مطابق نکاح ہوسکتاہے؟رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ شکرانہ وغیرہ کرتے رہنا چاہئے جیساکہ فیصلہ کیا گیا تھا جب کہ مامی عدت میں ہوں گی۔ براہ کرم، اس بارے میں مشورہ دیں۔

    جواب نمبر: 35404

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 1814=1460-11/1432 یہ تو نظامِ قدرت ہے، ہرشخص کو اپنا وقت پورا کرکے وقت مقررہ پر دارالبقاء کو جانا ہے، اللہ تعالیٰ آپ کے ماموں جان کی مغفرت فرمائے۔ ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ جب شادی کے سارے انتظامات ہوچکے ہیں، تو ۲۳/ اکتوبر کو پلان کے مطابق شرعاً نکاح ہوسکتا ہے، صرف ماں کا مسئلہ عدت میں ہونے کا ہے تو وہ عدت میں رہے اور سوگ منائے ان کے لیے سوگ منانا چار ماہ دس دن تک واجب ہے، اور رشتہ داروں کے لیے تین دن کافی ہے۔ لہٰذا ہمت کرکے پروگرام کے مطابق نکاح کردینا چاہیے، اسی میں خیر ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند