• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 35087

    عنوان: اگر لڑکے کے گھروالے شادی میں بارات کامطالبہ کرے جب کہ اسلام میں کوئی ممنوعہ چیز نہ ہو مثلاًمیوزک ، ویڈیو وغیرہ ، تو کیا ہم اس تقریب میں شامل ہوسکتے ہیں؟یہ بات آپ کے علم میں رہے کہ ہم لڑکی والے پر کھلانے پلانے کے سلسلے میں دباؤنہیں ڈال رہے ہیں بلکہ وہ از خود اس کے لیے تیار ہیں ۔ براہ کرم، شریعت کی روشنی میں جواب دیں کہ کیا اس پارٹی میں شریک ہونا جائز ہے یا نہیں؟

    سوال: اگر لڑکے کے گھروالے شادی میں بارات کامطالبہ کرے جب کہ اسلام میں کوئی ممنوعہ چیز نہ ہو مثلاًمیوزک ، ویڈیو وغیرہ ، تو کیا ہم اس تقریب میں شامل ہوسکتے ہیں؟یہ بات آپ کے علم میں رہے کہ ہم لڑکی والے پر کھلانے پلانے کے سلسلے میں دباؤنہیں ڈال رہے ہیں بلکہ وہ از خود اس کے لیے تیار ہیں ۔ براہ کرم، شریعت کی روشنی میں جواب دیں کہ کیا اس پارٹی میں شریک ہونا جائز ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 35087

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 1693=1162-11/1432 موجودہ دور میں بارات نے ایک رسم کی صورت اختیار کرلی ہے اور گویا شادی کو اس کے بغیر ناقص سمجھا جانے لگا ہے جب کہ شریعت میں بارات کا ثبوت نہیں ہے، اس لیے بارات لیجانے سے (گو وہ لڑکی والوں کے مطالبہ پر ہی ہو) احتراز کرنا ہی بہتر ہے، باقی اگر گھر کے کچھ افراد دولہا کے ساتھ چلے جائیں اور لڑکی والے ان کی ضیافت کردیں تو اس کی گنجائش ہے۔ زیادہ لوگوں کا اس میں شریک ہونا مناسب نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند